ڈھاکا:

بنگلہ دیش کے تجربہ کار اور اسٹار آل راؤنڈر شکیب الحسن کو سوشل میڈیا پر سیاست سے متعلق دیا گیا بیان مہنگا پڑ گیا ہے۔

کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے مشیر کھیل آصف محمود نے کہا ہے کہ شکیب الحسن اب قومی ٹیم کی نمائندگی نہیں کر پائیں گے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ شکیب الحسن نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو سالگرہ پر مبارک باد پر مبنی ٹویٹ کی تھی، جس کے بعد مشیر کھیل نے قرار دیا کہ تجربہ کار آل راؤنڈر بنگلہ دیش کے لیے نہیں کھیلیں گے۔

شکیب الحسن کی جانب سے کیے گئے ایک مختصر پوسٹ کے بعد آصف محمود نے ان کا نام لیے بغیر کہا کہ آپ سب نے مجھے ایک شخص کی بحالی نہ ہونے پر نشانہ بنایا لیکن میں صحیح تھا۔

کرکٹر نے اپنی اگلی پوسٹ میں لکھا کہ بالآخر کسی نے تسلیم کرلیا کہ یہ اس کی وجہ ہوا ہے اور میں دوبارہ بنگلہ دیش کی جرسی دوبارہ نہیں پہن سکتا، اسی کی وجہ سے میں بنگلہ دیش کے لیے نہیں کھیل سکتا، ہوسکتا ہے ایک دن میں اپنے وطن واپس آؤں۔

بنگلہ دیش کے مشیر کھیل آصف محمود نے مقامی چینل کو انٹرویو میں بتایا کہ وہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو ہدایت کریں گے کہ وہ شکیب کو دوبارہ منتخب نہ کریں کیونکہ شکیب الحسن عوامی لیگ سے جڑے ہوئے ہیں اور سیاست کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم انہیں بنگلہ دیش کا پرچم اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں، میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ انہیں اجازت دوں کہ بنگلہ دیش کی جرسی پہن لیں، اس سے پہلے میں نے بی سی بی کو نہیں کہا تھا لیکن اب بی سی بی کو براہ راست واضح ہدایت کروں گا کہ شکیب الحسن دوبارہ بنگلہ دیش کے لیے نہیں کھل سکتے ہیں۔

شکیب الحسن نے پوسٹ میں شیخ حسینہ واجد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کرکٹ سے جڑی ہوئی تھیں اور ہمارا تعلق سیاست پہلے بھی اسی نسبت سے تھا، میں انہیں اسی حوالے سے مبارک باد دیتا تھا، اس کے لیے کوئی اور وجہ یا کسی کو اشتعال دلانا نہیں تھا۔

یاد رہے کہ شکیب الحسن عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے سے قبل جنوری سے اگست تک بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن تھے اور جب طلبہ کے احتجاج کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں اور ملک میں عبوری حکومت نے انتظام سنبھال لیا تھا جبکہ شیکب الحسن اس وقت ملک میں موجود نہیں تھے اور بعد میں واپس نہیں آئے۔

شکیب الحسن نے بنگلہ دیش کی جانب سے آخری مرتبہ گزشتہ برس پاکستان اور بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلی تھی تاہم گزشتہ ایک سال کے عرصے میں انہیں قومی ٹیم میں منتخب نہیں کیا گیا جبکہ وہ دنیا کے دیگر ممالک میں لیگز میں مسلسل کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہ شکیب الحسن بنگلہ دیش کے بنگلہ دیش کی کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف