بلدیاتی ایکٹ 2025 سٹینڈنگ کمیٹی سے متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
راؤ لشاد :پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جہاں صوبائی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے بلدیات نے بلدیاتی ایکٹ 2025 کو اتفاقِ رائے سے منظور ی دے دی ہے۔
بلدیاتی انتخابات فروری یااپریل2026میں کرانےکیلئےورکنگ شروع کر دی ہے،صوبائی وزیرذیشان رفیق کامجوزہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ رواں ماہ ہی منظورکرانے کااعلان کیا ہے۔
صوبائی وزیربلدیات ذیشان رفیق کا کہنا تھا کہ بلدیاتی ایکٹ2025تیار،قائمہ کمیٹی نےمنظوری دیدی،سٹینڈنگ کمیٹی مین ینگ پارلیمنیٹرین فورم ،اپوزیشن نےکھل کررائےدی،پنجاب اسمبلی سےبھی بلدیاتی ایکٹ جلد پاس ہوجائے گا ،یونین کونسل میں 9کونسلرز براہ راست منتخب ہوں گے،یونین کونسل میں4مخصوص نشستیں ہونگی ،یوسی کی آبادی 22سے25ہزارتک ہوگی۔
’’اپنے ہتھیار ہمارے حوالے کر دو‘‘
اُن کا مزید کہناتھا کہ لاہور میں یونین کونسلز کی تعداد 400 سے تجاوز کرے گی،لاہور میں ٹاؤن کارپوریشن ہوگی ، میٹروپولیٹن کارپوریشن ختم کردی جائے گی،دوسرے اضلاع میں تحصیل کونسلز بنائی جارہی ہیں۔
بلدیاتی ایکٹ کی منظوری کےبعدالیکشن کمیشن نے حد بندی و حلقہ بندی کاآغازکرناہے،حد بندی اور حلقہ بندی مکمل ہونے پر ہی الیکشن شیڈول کا اعلان کیاجائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔