پی ٹی آئی کی حکومت نے 4 سال کے دوران مری کے جنگلات سے لکڑیاں کاٹ کر اسے کنکریٹ کا شہر بنا دیا :وزیر اعلیٰ پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے 4 سال کے دوران مری کے جنگلات سے لکڑیاں کاٹ کر اسے کنکریٹ کا شہر بنا دیا۔ ساملی سنٹوریم اسپتال مری میں نواز شریف کارڈیک سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ن لیگ کی حکومت گزشتہ حکومت کی طرح صرف اعلانات نہیں کر رہی بلکہ عملاً کام کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مری میں غیر قانونی تعمیرات بھی کی گئیں، جس پر ہمیں کارروائی کرنا پڑی۔ مریم نواز نے کہا کہ سیاست مشکل سفر اور کٹھن راستوں کا نام ہے، سیاست خدمت کا نام ہے، 1930 کے بعد پہلی مرتبہ ساملی سنٹوریم اسپتال کی اَپ گریڈینشن کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے بعد مری ہمارا دوسرا گھر ہے، بچپن سے یہاں آ رہی ہوں، مری کے ساتھ رشتہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی۔ مریم نواز نے کہا کہ مری سمیت اطراف کے علاقوں میں دل کے علاج کے لیے کوئی سہولت موجود نہیں تھی، دل کی تکلیف ہو جائے تو مریض کے پاس زیادہ وقت نہیں ہوتا، آج 5 لوگوں کی انجیوگرافی بھی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ مری سے پنڈی پہنچتے پہنچتے مریض بھی دم توڑ دیتا ہے، اس لیے میں نے سوچا کہ یہاں دل کا اسپتال ہونا چاہیے اور چند ماہ کے اندر اندر کارڈیک سینٹر نے کام شروع کر دیا ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ بہت جلد مری سے پنڈی کے درمیان ٹرین چلائیں گے، سیاحوں کو اپنی گاڑیوں پر نہیں آنا پڑے گا جبکہ جلد گرین بسیں بھی مری پہنچ جائیں گی۔ مری میں سڑکوں کے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنایا گیا ہے، صاف پانی کا منصوبہ بھی لیکر آ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ دو سال میں مری دنیا کا بہترین سیاحتی مقام ہوگا، خیبر پختونخوا سے مری میں داخل ہوتے ہی واضح فرق نظر آتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا کہ
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔