بلوچستان پھر دہشتگردی کی لپیٹ میں، خودکش دھماکے نے 12 زندگیاں نگل لیں
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
کوئٹہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے مزید دو زخمی دورانِ علاج دم توڑ گئے. جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق ٹراما سینٹر میں زیرعلاج کئی زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی، جن میں سے 24 مریضوں کو صحت یاب ہونے پر ڈسچارج کردیا گیا ہے۔منگل کو کوئٹہ کے مشرق میں واقع ایف سی ہیڈکوارٹر کے قریب خودکش دھماکے میں ابتدائی طور پر 10 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوئے تھے۔ دھماکے کی آواز مشرقی علاقے ماڈل ٹاؤن اور اطراف میں دور تک سنی گئی جو کہ ایک حساس علاقہ ہے۔ خودکش دھماکے کے نتیجے میں قریبی گھروں اور عمارتوں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق، یہ خودکش حملہ فتنۃ الہندوستان کی کارروائی تھا.
دوسری جانب مختلف اسپتالوں میں اب بھی 8 زخمی زیرعلاج ہیں جبکہ ٹراما سینٹر میں ایک خاتون سمیت 2 افراد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق زخمیوں کو مکمل طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔پولیس نے بتایا کہ خودکش دھماکے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کر لیا گیا ہے. جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ، قتل، اقدام قتل اور دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق شواہد اکٹھے کرنے اور سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں پتا چلا ہے کہ دھماکے میں 25 سے 30 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا. اس کے علاوہ ہلاک حملہ آوروں سے 15 دستی بم اور بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خودکش دھماکے کے مطابق
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز