Islam Times:
2026-07-23@23:29:49 GMT

اہل یمن کی مثالی جدوجہد

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

اہل یمن کی مثالی جدوجہد

اسلام ٹائمز: اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی یمن کی صلاحیت نے مغربی بحریہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ جہاز رانی کے راستوں کی حفاظت کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل خرچ کریں۔ یمنیوں نے حقیقت میں روایتی دفاعی ماڈل کو بدل دیا ہے۔ یمن نے ثابت کر دیا ہے کہ جدید فضائی بیڑے کا مقابلہ کرنے کے لیے مہنگے دفاعی نظام (جیسے S-400) کی ضرورت نہیں ہے۔ اہل یمن کی قربانیوں کی ایک داستان ہے جسے نظرانداز کیا گیا ہے۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

یمن بحیرہ احمر کی سلامتی کی مساوات میں خود کو ایک موثر کھلاڑی کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس کے خلاف برسر پیکار افواج کے کیے آپریشن کی لاگت میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ ”انصار اللہ“ کی کلیدی صلاحیتیں، آپریشنل حکمت عملیاں اور ان کے تزویراتی اثرات حیران کن ہیں۔ یمن تین میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرکے اپنے دفاعی ڈھانچے کو دوبارہ موثر بنانے میں کامیاب رہا ہے۔ یمن نے عملی طور پر دکھایا ہے کہ کس طرح کم سے کم وسائل کے ساتھ جدید ترین عسکری نظام کا مقابلہ کرنا ممکن ہے۔ اول یمن نے پرانے میزائلوں کو دوبارہ تیار کرکے اور موبائل سسٹم بنا کر ایک متحرک  دفاعی نظام تشکیل دیا ہے۔ اس کی ایک اہم مثال فضاء سے ہوا میں مار کرنے والے روسی میزائلوں جیسے R-27 کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے نظام میں تبدیل کرنا ہے۔

یہ سسٹم عام طور پر ہلکی گاڑیوں پر نصب ہوتا ہے اور فائرنگ کے بعد اسے تیزی سے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس حکمت عملی کا مظاہرہ 2024 میں سعودی F-15SA لڑاکا طیارے کے ساتھ ساتھ ایک امریکی MQ-9 ریپر ڈرون کو گرا کر کیا گیا۔ ان نظاموں کی وجہ سے دشمن کی طرف سے "آپریشنل سرپرائز" اور "ابتدائی حملے کے خطرے کو کم  کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ  یمن نے ثابت کیا ہے کہ تکنیکی برتری کا مطلب یہ نہیں کہ زمین پر برتری ہو۔ ”جی پی ایس جیمرز“ اور ”سیٹلائٹ کمیونیکیشن انٹرسیپشن سسٹم“ سمیت مقامی یا تبدیل شدہ الیکٹرانک جنگی نظام کا استعمال کرتے ہوئے، یمن نے ”ترک کرائیل“ جیسے جدید ڈرون کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ مثال کے طور پر اس سسٹم کے تحت نشانے پر لیا گیا دشمن کا ڈرون اپنے زمینی کنٹرول سٹیشن سے رابطہ کھونے کے بعد گر کر تباہ ہوگیا۔

اس دفاعی نظام کے تحت یمن کو بہت کم قیمت پر دشمن کے ملٹی ملین ڈالر کے ہتھیاروں کو بے اثر کرنے کی صلاحیت حاصل ہوئی ہے۔ یمن ڈرون کو جارحانہ اور دفاعی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اس کے خودکش ڈرونز کا استعمال زمینی اور سمندری اہداف پر حملہ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جب کہ صاعقہ جیسے انٹرسیپٹر ڈرون کو دشمن کے ڈرونز اور ہوائی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس صلاحیت نے یمن کو خود پر مسلط کیے گئے خطرے کو دشمن کے علاقے تک بڑھانے اور ایک اسٹریٹجک ڈیٹرنٹ بنانے کی طاقت دی ہے۔ یہ تین دفاعی ستون: موبائل ڈیفنس سسٹم، الیکٹرانک وارفیئر، اور ڈرونز کا استعمال ایک مہلک دفاعی مثلث بناتے ہیں جو مخالفین کی فضائی برتری کے خلاف ایک کم لاگت کا حامل لیکن انتہائی موثر ردعمل ہے۔

یہ نیا دفاعی ڈھانچہ ایک ایسا نمونہ ہے جسے دیگر غیر ریاستی عناصر یا کم وسائل رکھنے والی ریاستیں اپنا سکتی ہیں۔ یمن کی دفاعی طاقت کے کئی مظاہر ہیں مثلاً وہ فاطر یا ثقیب جیسے مقامی فضائی دفاعی نظام کا استعمال کرتے ہوئے، جس کی پیداوار یا تنصیب پر تقریباً 100,000 ڈالر لاگت آتی ہے، سعودی F-15SA لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا ہے، ان طیاروں میں سے ہر ایک کی مالیت تقریباً 100 ملین ڈالر ہے، یمن نے امریکی MQ-9 ریپر جیسے جاسوسی کرنے والے ڈرون، جس کی لاگت تقریباً 32 ملین ڈالر ہے، کو سستے طیارہ شکن میزائلوں یا یمنی الیکٹرانک وارفیئر سسٹم کے ذریعے مار گرایا ہے، اس کی آپریشنل لاگت تقریباً 50,000 ڈالر ہے۔

یہ کامیابی کم قیمت پر دشمن کے مہنگے جارحانہ انٹیلی جنس اثاثوں کو ختم کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ یمن کی کارکردگی کی سب سے ڈرامائی مثال ڈرونز یا اینٹی شپ کروز میزائلوں کے ذریعے 1.

8 بلین ڈالر کی لاگت کے”ارلی برک کلاس ڈسٹرائرز“ کو نشانہ بنانا ہے، اس قسم ڈرونز اور میزائیلوں کی تیاری میں 50,000 ڈالر سے بھی کم لاگت آسکتی ہے۔ لاگت کے اس عدم توازن نے یمن کے دشمنوں کے لیے ایک سٹریٹجک بحران پیدا کر دیا ہے۔ یہ اس "غیر متناسب جنگ“ میں ایسا ”ڈیٹرنس‘‘ ہے جسے یمن نے کامیابی سے نافذ کیا ہے۔ اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی یمن کی صلاحیت نے مغربی بحریہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ جہاز رانی کے راستوں کی حفاظت کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل خرچ کریں۔

یمنیوں نے حقیقت میں روایتی دفاعی ماڈل کو بدل دیا ہے۔ یمن نے ثابت کر دیا ہے کہ جدید فضائی بیڑے کا مقابلہ کرنے کے لیے مہنگے دفاعی نظام (جیسے S-400) کی ضرورت نہیں ہے۔ اہل یمن کی قربانیوں کی ایک داستان ہے جسے نظرانداز کیا گیا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق سات اکتوبر 2023ء سے شروع ہونے والی جنگ میں اب تک فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 66000 ہزار ہے جب کہ آل سعود کی سربراہی میں یمنی حریت پسندوں پر مسلط کردہ جنگ میں جان کی بازی ہارنے والے  یمنی مسلمانوں کی تعداد تقریباً ساڑھے تین لاکھ ہے۔ یہ تعداد اہل یمن کی مظلومیت کے گراف کو فلسطینیوں کی مظلومیت کے پیمانے سے کم ظاہر نہیں کرتی۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کو نشانہ بنانے کا استعمال دفاعی نظام اہل یمن کی کی صلاحیت کیا گیا ڈرون کو دشمن کے ہے جسے کے لیے کیا ہے دیا ہے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی