ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ، مغربی مطالبات مسترد؛ ایران کا میزائل رینج بڑھانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
کمانڈر ایرانی پاسداران انقلاب نے ایران کے میزائلوں کی رینج ضرورت کے مطابق بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔
عالمی خبر ایجنسی کے مطابق کمانڈر ایرانی پاسداران انقلاب نے ایرانی میزائلوں کی رینج بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ جنرل محمد جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ مغربی مطالبات مسترد کرتے ہیں، ایران اپنے دفاع کا فیصلہ خود کرے گا اور میزائل کی رینج ضرورت کے مطابق بڑھائی جائے گی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا اور یورپی ممالک ایران کی میزائل صلاحیتوں پر پابندی چاہتے ہیں جب کہ ایرانی حکام کے مطابق میزائل پروگرام پر دباؤ جوہری معاہدے میں رکاوٹ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی میزائلوں کی خود ساختہ رینج 2 ہزارکلومیٹر تک محدود ہے۔ ایرای حکام کے مطابق 2 ہزار کلومیٹر رینج اسرائیل تک پہنچنے کیلیے کافی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رواں برس جون میں ایران کے مغربی لانچرز اسرائیلی حملوں کی زد میں آئے تھے اور اب ایرانی حکام کے مطابق لانچنگ پوائنٹس مشرق کی طرف منتقل کر دیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔