Express News:
2026-07-24@02:21:06 GMT

متاثرین کو بیانات نہیں، فوری امداد چاہیے

اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT

سیلاب کی تباہ کاریوں سے شدید متاثر ہونے والے افراد کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے سیاسی بیانات نے مزید پریشان کرکے رکھ دیا ہے اور سیاسی تشہیر کے لیے سیاسی رہنماؤں کی تصاویر کے کارڈ ان کی امداد میں تاخیر کا سبب بن گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما چاہتے ہیں کہ ان کی شہید رہنما بے نظیر بھٹو کے نام پر جو انکم سپورٹ پروگرام ملک بھر میں 2008 سے چل رہا ہے۔

 اسی کے مطابق سیلاب متاثرین کو فوری امداد دی جائے جب کہ مسلم لیگ (ن) والوں کا موقف ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت پنجاب کے سیلاب متاثرین کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا کیونکہ متاثرین کی ضرورت دس بارہ ہزار سے پوری نہیں ہو سکتی۔ پنجاب کے جو علاقے سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں وہاں بڑی تعداد میں گھر تباہ، فصلیں برباد اور ان کے لاکھوں روپے کے جانور ہلاک ہوئے ہیں اور لاکھوں متاثرین حکومت کے ریلیف سینٹروں میں اپنے گھروں کو واپسی کے منتظر ہیں جن کے تباہ حال گھر رہنے کے قابل نہیں ہیں اور ہر متاثرہ خاندان کو اپنی ضرورت کے مطابق امداد چاہیے جو حکومت پنجاب انھیں فراہم کرے گی۔

بے نظیر کے نام پر پیپلز پارٹی نے اپنی گزشتہ حکومت میں یہ پروگرام شروع کیا تھا جس کا بڑا مقصد سیاسی تھا کیونکہ اس پروگرام کے تحت مستحقین کو جو امداد مل رہی ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مطابق ہے مگر ہمارے کرپٹ افسروں نے غریبوں کی برائے نام امداد کے اس پروگرام کو بھی نہیں بخشا تھا اور انھوں نے اپنی بیگمات کے نام مستحق غریبوں کی فہرستوں میں شامل کرکے یہ امداد وصول کی اور جب اس فراڈ کا انکشاف ہوا تو حکومت نے سیاسی مفاد کے لیے ان افسروں اور ان کی بیگمات کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی۔

ایسے افسروں کو برطرف ہونا چاہیے تھا مگر پیپلز پارٹی کو ناراض نہیں کرنا تھا، اس لیے ایسے افسروں کے نام چھپائے گئے جن کی امیر بیگمات نے غریب بن کر یہ امداد ہڑپ کی تھی۔ حکومت نے ان بیگمات سے کہا کہ وہ وصول شدہ رقم واپس جمع کرا دیں انھیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔

افسروں اور ان کی بیگمات کی یہ حرکت قابل سزا بنانے کے بجائے انھیں خصوصی رعایت دی گئی۔ بی ایس آئی ایس پروگرام کا زیادہ فائدہ غیر مستحقین کو تو ہوا ہی مگر یہ رقم جن کا حق تھا ان کو بھی پوری رقم نہ ملنے کی شکایات عام ہیں اور حکومت کوشش کے باوجود اصل مستحقین کو پوری رقم دلوانے میں ناکام رہی ہے۔جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے حال ہی میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دیا ہے اور دیگر سیاسی و عوامی حلقے بھی اس پروگرام سے مطمئن نہیں مگر پیپلز پارٹی مطمئن ہے اور شہباز حکومت سے ہر سال بجٹ میں اس پروگرام کی رقم بڑھواتی رہی ہے کیونکہ پی پی کا اس میں سیاسی فائدہ ہے اور جو خواتین اس پروگرام سے مالی فائدہ اٹھا رہی ہیں وہ زیادہ تر پی پی کی حامی ہیں اور پی پی اس پروگرام کو مزید بڑھانا چاہتی ہے۔

پیپلز پارٹی نے اپنی رہنما کے نام پر یہ پروگرام شروع کیا تھا جس پر بے نظیر بھٹو کی تصویر نمایاں ہے اور خواتین کی مدد کے اس پروگرام کے لیے حکومت بجٹ میں رقم مختص کرتی ہے جس کا سیاسی فائدہ بھی پیپلز پارٹی اٹھا رہی ہے جس میں دیگر جماعتوں کو اعتراضات بھی ہیں۔ اس پروگرام کے تحت غریب خواتین کی کچھ مدد ہو جاتی ہے مگر یہ پروگرام سیلاب متاثرین کے لیے واقعی ناکافی ہے۔ اس پروگرام سے مالی مدد حاصل کرنے والوں کی فہرستیں بنی ہوئی ہیں جس پر عمل ہوتا آ رہا ہے۔ 2022 میں بھی سیلاب آیا تھا اور 2025 میں بھی آیا ہے مگر صورتحال مختلف ہے۔

پہلے پنجاب کے بعض اضلاع متاثر ہوئے تھے مگر اس بار پنجاب میں سیلاب سے تباہی زیادہ اور سندھ میں کم ہوئی ہے۔ پنجاب سے قبل کے پی میں سیلاب سے جو تباہی ہوئی تھی اس وقت پی پی رہنماؤں نے بے نظیر پروگرام سے متاثرین کی مدد کا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا اور اب یہ مطالبہ پنجاب حکومت سے کیا گیا ہے۔ کے پی حکومت نے پنجاب اور سندھ کی امدادی پیشکش کے جواب میں ان کی مدد نہیں لی تھی اور کہا تھا کہ اپنے وسائل سے ہم کے پی کے متاثرین کو آباد کریں گے۔

پنجاب بڑا صوبہ ہے جس کے مالی وسائل زیادہ ہیں اور حکومت پنجاب اسی نام سے متاثرین کی ان کی ضروریات کے مطابق امداد اور آبادکاری چاہتی ہے اور ممکن ہے اس کارڈ پر وزیر اعلیٰ کی تصویر بھی ہو جس پر سیاسی اعتراض ضرور ہوگا اس لیے اس سے گریز بہتر ہوگا مگر وزیر اعلیٰ پروگرام پر فوری عمل ضروری ہے۔ پنجاب کے کسانوں کو گندم کی کاشت کے لیے فوری حکومتی مدد چاہیے تاکہ آنے والی فصل متاثر نہ ہو۔

پنجاب کے سیلاب متاثرین ایک ماہ سے بے گھر اور پریشان ہیں انھیں فوری امداد چاہیے مگر سیاسی بیانات ان کی امداد میں تاخیر پیدا کر رہے ہیں۔ انھیں سیاسی بیانات یا امدادی کارڈز سے کوئی دلچسپی نہیں۔ امدادی کارڈ کسی کی بھی تصویر کے ہوں یا بغیر تصویر ان کی ضرورت نہیں بلکہ عملی طور پر امداد کی فراہمی ان کی فوری اور حقیقی ضرورت ہے وہ مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے اس لیے پنجاب حکومت متاثرین کو عملی طور فوری امداد کی فراہمی یقینی بنائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سیلاب متاثرین پیپلز پارٹی پروگرام کے اس پروگرام پروگرام سے متاثرین کو فوری امداد پنجاب کے کے مطابق ہیں اور رہی ہے ہے اور کے نام کے لیے اور ان

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف