صمود فلوٹیلا پر حملے کی مذمت، پاکستان فلسطین کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد : پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ کو زبردستی روکنے اور درجنوں عالمی انسانی حقوق کارکنان کو گرفتار کرنے کے اقدام پر سخت ردعمل دیا ہے۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر اپنے اہم بیان میں اسرائیلی فوجی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان نہ صرف اس اقدام کی شدید مذمت کرتا ہے بلکہ عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی کرائی جائے اور غزہ پر قابض اسرائیلی محاصرہ ختم کیا جائے تاکہ بے گناہ فلسطینی عوام تک خوراک، ادویات اور بنیادی سہولتیں پہنچ سکیں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ امدادی کارکنوں کی فوری رہائی ہونی چاہیے اور انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کی جائے۔
انہوں نے اپنے بیان میں زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی اقدامات عالمی عدالتی فیصلوں کے بھی منافی ہیں اور دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والے ہیں۔ غزہ کے عوام پر جاری مظالم اور انسانی بحران عالمی برادری کے لیے امتحان ہیں اور وقت آگیا ہے کہ دنیا خاموش تماشائی کا کردار چھوڑ کر عملی اقدامات کرے۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے ایک مرتبہ پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی کی غیر متزلزل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔