سیلاب پر فوری امداد نہیں مانگیں گے، کوشش ہے اپنے زور بازو پر معاملات ٹھیک کریں: وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سیلاب سے متعلق فیصلہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر بیرونی امداد نہیں مانگی جائے گی اور کوشش ہے کہ مسائل کو اپنے وسائل اور صلاحیت کے ذریعے حل کیا جائے۔
پاکستان بزنس سمٹ پشاور سے خطاب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کا بنیادی کام اب صرف ٹیکس اکٹھا کرنا ہوگا، جبکہ آئندہ مالی سال کا بجٹ ٹیکس پالیسی آفس تیار کرے گا جو ایک مستحکم بجٹ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں نجی شعبے کا اہم کردار ہوتا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ نجی شعبے کو سازگار ماحول فراہم کرے۔ اسی لیے ریگولیٹری میٹریل کی قیمتیں کم کی گئیں تاکہ انڈسٹریز کو سہولت ملے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر نجی شعبے کو آگے بڑھانا ہے تو ٹیکس اور دیگر معاملات کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ عوام کا اعتماد معیشت پر بحال ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔