آئی ایم ایف کی ہدایات پر سیلابی نقصانات کا نظرثانی شدہ ابتدائی تخمینہ تیار، نقصانات 700 ارب تک پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 اکتوبر2025ء ) حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی ہدایات پر صوبوں میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا نظرثانی شدہ ابتدائی تخمینہ تیار کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ششماہی اقتصادی جائزہ مذاکرات میں پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف وفد کو سیلابی نقصانات، لیبر فورس اور ہاؤس ہولڈ سروے پر بریفنگ دی، وفاقی حکومت نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا نظرثانی شدہ ابتدائی تخمینہ بھی تیار کیا ہے، آئی ایم ایف کو فصلوں، انفرا اسٹرکچر اور لائیو سٹاک سمیت نقصانات پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیلاب سے مختلف صوبوں میں ہونے والے نقصانات 700 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔
ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ سیلاب سے ابتدائی مجموعی نقصانات کا تخمینہ 360 ارب روپے تھا، لیبر فورس اور ہاؤس ہولڈ سروے سے متعلق آئی ایم ایف کی ڈیڈ لائن سے پہلے ہی پیشرفت ہوئی اور وفاقی حکومت نے نئے پاکستان لیبر فورس سروے کے نتائج آئندہ ہفتے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سروے رپورٹ میں پاکستان میں غربت، بے روزگاری، گھرانوں کی آمدن، اخراجات کے رجحان کا ڈیٹا جاری ہو گا، پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈ سروے کے نتائج بھی رواں ماہ جاری کیے جائیں گے۔(جاری ہے)
ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کو اہم سروے کے فیلڈ ورک اور نتائج کی تیاری پر اعتماد میں لیا گیا ہے، آئی ایم ایف نے سروے کے نتائج دسمبر 2025ء تک تیار کرنے کی ڈیڈ لائن دی تھی، ادارہ شماریات کی جانب سے اضلاع، صوبوں کی سطح پر مکمل ڈیٹا بیس کی تیاری پر کام جاری ہے اور سیلاب سے نقصانات کا تخمینہ لگانے کا مزید کام بھی ابھی کیا جارہا ہے۔ .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ا ئی ایم ایف نقصانات کا سیلاب سے سروے کے
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔