اپنے بیان میں رہنما جے یو آئی سندھ نے کہا کہ اگر حماس کو ختم کیا گیا تو اسرائیل باقی فلسطینی علاقوں پر قبضہ کرلے گا، اوسلو معاہدے کے بعد پی ایل او کو کمزور کیا گیا اور مزاحمت ختم ہوتی گئی، جبکہ اسرائیل مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کے ذریعے قبضہ بڑھاتا رہا۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علما اسلام سندھ کے جنرل سیکرٹری علامہ راشد محمود سومرو نے کہا ہے کہ غزہ کے دکھی انسانوں کے لیے کھانے پینے اور دوائیں لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے پرامن مشن پر اسرائیلی حملہ اور گرفتاریاں عالمی ظلم و جبر کی نشانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں دو سال تک اسرائیل کو معصوم فلسطینیوں کے قتل عام کی کھلی اجازت دینے کے بعد امریکہ کی طرف سے 20 نکاتی امن منصوبہ سامنے آیا ہے، امن سب کی خواہش ہے مگر 1993ء میں امریکی سرپرستی میں ہونے والا اوسلو معاہدہ اور موجودہ منصوبہ بھی اسرائیلی خواہشات کے تحت ہے، 32 سال گزرنے کے باوجود اسرائیلی مظالم جاری ہیں اور اس منصوبے کی اہم شق حماس کا خاتمہ ہے جو اس وقت فلسطین کی واحد مزاحمتی قوت ہے، اگر حماس کو ختم کیا گیا تو اسرائیل باقی فلسطینی علاقوں پر قبضہ کرلے گا۔

علامہ سومرو نے کہا کہ اوسلو معاہدے کے بعد پی ایل او کو کمزور کیا گیا اور مزاحمت ختم ہوتی گئی، جبکہ اسرائیل مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کے ذریعے قبضہ بڑھاتا رہا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کون ضمانت دے گا کہ غزہ کی تاریخ خود کو دہرائے نہیں گی۔ انہوں نے مسلم قیادت اور اسرائیل کے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا کہ اگر حماس کو امریکی منصوبے کے لیے قربان کیا گیا تو ان کے لیے بھی تباہی کا خطرہ ہے۔ علامہ سومرو نے کہا کہ فلسطینی عوام کو آزادی تک مزاحمت کا قانونی حق حاصل ہے اور کسی بھی بیرونی مداخلت کو اسرائیل کی حمایت اور القدس کے سوداگر کے مترادف سمجھا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں مظلوموں پر جاری اسرائیلی ظلم شرمناک ہے، اسرائیل امریکہ کے ذریعے وہ مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے جو جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا، نیتن یاہو کا بیان کہ اسرائیلی فوج غزہ کے بیشتر علاقوں میں موجود رہے گی، ان کی مذموم نیت عیاں کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل پر کوئی اعتماد نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ 1982ء میں صابرا اور شتیلا کیمپوں میں فلسطینی قتل عام اسرائیلی دھوکہ دہی کی واضح مثال ہے۔ علامہ سومرو کا کہنا ہے کہ جب تک فلسطینی خود دو ریاستی حل پر فیصلہ نہیں کرتے، کوئی حل ان پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے اور تشدد کی سخت مذمت کی اور  اسرائیلی حملے، گرفتاریوں کو عالمی دادا گیری قرار دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ کے ذریعے انہوں نے کیا گیا کہ غزہ

پڑھیں:

کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی

گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے اپنی تمام ذمہ داریاں آئینِ پاکستان کے مطابق ادا کریں گے اور ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی نہیں بلکہ وفاق کی آئینی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار کی ہوگی۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایڈیٹرز کلب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صحافت، تعلیم، گورننس اور سندھ کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب رہیں گے اور کسی بھی فیصلے میں سیاسی یا لسانی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر سندھ کے تمام شہریوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور بطور گورنر ان کا کردار صوبے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔

صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کلچر نے معلومات کی ترسیل کا انداز بدل دیا ہے، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ صحافت کی بنیادی ذمہ داری تحقیق، حقائق اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔

انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں اور ایڈیٹوریل گائیڈ لائنز کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ نئے آنے والے رپورٹرز کی بہتر تربیت کی جا سکے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ متعلقہ، بامقصد اور مؤثر سوالات کریں، کیونکہ معیاری سوال ہی معیاری صحافت کی بنیاد بنتا ہے۔

گورنر سندھ نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور معیار کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔

انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس ہی میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے غیر ضروری پروٹوکول کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری رہائش گاہ موجود ہے تو غیر ضروری نقل و حرکت اور بڑے پروٹوکول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سادگی، کفایت شعاری اور عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہی بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔

ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی میڈیا کو درپیش چیلنجز، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر صحافتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گورنر سندھ نہال ہاشمی

متعلقہ مضامین

  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم