عوام کےہاتھ میں کشکول نہیں دےسکتی،کبھی معافی نہیں مانگوں گی،مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سیلاب زدگان کے لیے عالمی امداد کا مطالبہ کرنے والوں پر پھر کڑی تنقید کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں اپنے موقف پر معافی مانگے سے انکار کردیا، کہا کہ اپنے عوام کے ہاتھ میں کشکول نہیں دے سکتی۔
لاہور میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ پوزیشن ہولڈرز طلبہ کے اعزاز میں منعقد کی گئی تقریب سے خطاب کے دوران مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں عوام کی عزت نفس کی بات نہیں کروں گی تو کون کرے گا عوام کے ہاتھ میں کشکول نہیں دے سکتی، عوام کی تذلیل کرنے والوں کو جواب دوں گی، معافی نہیں مانگوں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب میں مجھے امداد مانگنے کا لیکچر دیا گیا، پنجاب اور عوام کی عزت نفس کی محافظ ہوں، اپنے لوگوں کو کشکول پکڑنے کا نہیں کہوں گی اور عوام کی عزت نفس کی بات اٹھانے پر کبھی معافی نہیں مانگوں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان فیک اور جھوٹے پروپیگنڈے کے قریب مت جائیں، نوجوان جلاؤ گھیراؤ کی باتوں پر کان مت دھریں، نوجوانوں کو جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے والے ان کے دشمن ہیں، ان کے بچے باہر اور 9 مئی کو حملہ کرنے والے نوجوان جیلوں میں ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا ہر شہر میں سینٹر آف ایکسی لینس اسکول بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں بچوں کومصنوعی ذہانت اورروبوٹکس کی تعلیم دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پوزیشن ہولڈرز طلبہ نے پنجاب اور پاکستان کا نام روشن کیا، پاکستانی نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ملکی ترقی میں نوجوانوں کا کردار اہم ہے، ہونہار طلبہ کو اسکالرشپ نہ ملتی تو تعلیم سے محروم رہ جاتے۔
مزید کہا کہ آج ٹیکنالوجی کا دور ہے، کتاب اور پینسل سے گزارہ نہیں، کوشش ہوتی ہے کہ کوئی حقدار اپنے حق سے محروم نہ رہے، ہونہار طلبہ کو لیپ ٹاپ دے رہی ہوں، تعلیم کے ذریعے ہی امیر اور غریب کا فرق ختم ہوسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔