وزیراعظم شہباز شریف اور دفتر خارجہ پاکستان نے غزہ کے مظلوم عوام کے لیے امداد لے جانے والا ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ پر حملے کی مذمت کی ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے ”ایکس“ پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان اسرائیلی افواج کے اس بزدلانہ اقدام کی شدید مذمت کرتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’فلوٹیلا میں چوالیس ممالک کے ساڑھے چار سو سے زائد کارکن سوار تھے جنہیں اسرائیلی افواج نے غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا ہے۔ ان کارکنان کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کے لیے امداد لے جا رہے تھے۔‘

شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ تمام کارکنان کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور فلسطینی عوام تک امداد کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اسرائیلی بربریت کو فوری طور پر روکے اور فلسطین میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ نہتے فلسطینی عوام کو ریلیف ملے اور غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے۔

Pakistan strongly condemns the dastardly attack by Israeli forces on the 40 vessel Samud Gaza flotilla, carrying over 450 humanitarian workers from 44 countries.


We hope and pray for the safety of all those who have been illegally apprehended by Israeli forces and call for their…

— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 1, 2025


خیال رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے گزشتہ رات قافلے کو غزہ سے ستر ناٹیکل میل دور روکا، چار جہازوں پر دھاوا بولتے ہوئے انہیں قبضے میں لے لیا اور ان پر موجود درجنوں کارکنان کو گرفتار کر کے اسرائیلی بندرگاہ منتقل کر دیا۔ گرفتار ہونے والوں میں عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ویڈیو جاری کر کے دعویٰ کیا ہے کہ تمام کارکن محفوظ ہیں، تاہم فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایک بار پھر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کے اس عظیم مشن کو سبوتاژ کیا ہے۔

’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ کے قافلے میں چوالیس جہاز شامل ہیں جن پر چھیالیس ممالک سے تعلق رکھنے والے پانچ سو سے زیادہ کارکن سوار ہیں۔ ان کارکنان کا مقصد صرف غزہ کے محصور عوام تک خوراک، ادویات اور دیگر امدادی سامان پہنچانا تھا۔ ان کارکنوں میں پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہیں۔ فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق اسرائیلی فوجی الما اور سائرس نامی کشتیوں پر سوار افراد کو گرفتار کر کے لے گئے اور اس کارروائی سے قبل صرف زبانی وارننگ دی گئی تھی۔

دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی امداد میں رکاوٹ جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فلسطینیوں تک بلارکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر جوابدہ بنایا جائے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کی غیرمتزلزل حمایت جاری رکھےگا۔

اسرائیلی حملے کے بعد فلوٹیلا کے منتظمین نے دنیا بھر کے عوام سے احتجاج کی اپیل کی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ’ہم ہر اُس کارکن کے ساتھ کھڑے ہیں جو اس قافلے میں شامل ہے۔ ان کا حوصلہ ہماری مشترکہ جدوجہد کا حصہ ہے۔ ہم رکیں گے نہیں، ہم سفر جاری رکھیں گے، یہاں تک کہ غزہ آزاد ہو جائے۔‘

ساتھ ہی عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں تاکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم ہوں، اس پر پابندیاں لگائی جائیں اور فلسطینی عوام تک امداد پہنچانے کا سلسلہ بلا رکاوٹ جاری رکھا جائے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ امدادی فلوٹیلا اسرائیلی جارحیت کا شکار بنا ہو۔ رواں سال جون میں بھی ’’فریڈم فلوٹیلا کولیشن‘‘ کا ایک جہاز، جس پر گریٹا تھنبرگ سمیت دیگر نمایاں کارکن سوار تھے، اسرائیل نے روکا اور مسافروں کو گرفتار کرنے کے بعد ملک بدر کر دیا۔

مئی میں مالٹا کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ایک اور امدادی جہاز کو مبینہ طور پر اسرائیلی ڈرون نے نشانہ بنایا۔ اس سے قبل 2010 میں ایک امدادی فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج نے حملہ کر کے نو ترک شہریوں کو شہید کر دیا تھا جبکہ ایک کارکن کئی سال کوما میں رہنے کے بعد 2014 میں جاں بحق ہوا۔ یہ سانحہ عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف شدید ردعمل اور احتجاج کا باعث بنا تھا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: فلسطینی عوام دفتر خارجہ نے کہا کہ

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل