کروڑوں کی کمائی کے باوجود شخص صفائی کا کام کیوں کرتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹوکیو: جاپان میں ایک ایسا حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جس نے لوگوں کو چونکا دیا ہے۔ 56 سالہ کوشی ماٹشوبارا نامی شخص ہر سال کرایوں اور سرمایہ کاری سے ساڑھے 5 کروڑ روپے سے زائد آمدنی حاصل کرتا ہے، مگر اس کے باوجود وہ اپنی صحت اور جسمانی سرگرمی برقرار رکھنے کے لیے اب بھی جمعدار کے طور پر کام کرتا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق کوشی ماٹشوبارا ہفتے میں 3 دن، روزانہ 4 گھنٹے ٹوکیو کے عوامی مقامات اور فلیٹوں کے ایک بلاک کی صفائی کرتے ہیں۔ اس کام سے انہیں ماہانہ تقریباً 680 ڈالرز ملتے ہیں۔ تاہم اصل دولت انہیں اپنی سات جائیدادوں کے کرایوں اور کمپنیوں میں سرمایہ کاری سے حاصل ہوتی ہے، جس سے ان کی سالانہ آمدنی 2 لاکھ ڈالرز (تقریباً ساڑھے 5 کروڑ پاکستانی روپے) سے زائد بنتی ہے۔
کوشی ماٹشوبارا کے مطابق یہ کام وہ آمدنی کے لیے نہیں کرتے بلکہ جسمانی طور پر سرگرم اور صحت مند رہنے کے لیے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “ہر صبح میں بیدار ہوکر ہر چیز کو صاف اور ترتیب دیتا ہوں، جس سے مجھے بہت اچھا محسوس ہوتا ہے۔”
سادہ طرزِ زندگی کے حامل اس کروڑ پتی شخص کے پاس نہ کوئی قیمتی گاڑی ہے اور نہ ہی جدید سہولتوں سے مزین گھر۔ وہ ایک عام فلیٹ میں رہتے ہیں، اپنا کھانا خود پکاتے ہیں، پرانا اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں اور سفر کے لیے سائیکل کو ترجیح دیتے ہیں۔
کوشی ماٹشوبارا نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک فیکٹری میں محض 1220 ڈالرز ماہانہ تنخواہ پر کیا۔ چند سالوں میں انہوں نے اخراجات محدود رکھ کر 20 ہزار ڈالرز جمع کیے اور اپنا پہلا فلیٹ خریدا۔ زمینوں کی قیمتیں گرنے کے دوران انہوں نے بتدریج مزید پراپرٹیز حاصل کیں اور آج وہ ٹوکیو کے پوش علاقوں میں کرائے پر دی گئی جائیدادوں سے بھاری آمدنی کماتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی زندگی کا مقصد دولت کی نمائش نہیں بلکہ ایک بامعنی اور صحت مند زندگی گزارنا ہے۔ 20 سال سے زائد صفائی کے شعبے سے وابستہ رہنے والے کوشی ماٹشوبارا اب 60 سال کی عمر کے بعد پنشن کے منتظر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کوشی ماٹشوبارا کے لیے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔