ایلون مسک 500 ارب ڈالر کی مجموعی مالیت رکھنے والے پہلی شخصیت گئے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے مالک ایلون مسک 500 ارب ڈالر کی مجموعی مالیت رکھنے والے دنیا کے پہلی شخصیت بن گئے۔
فوربز کے ریئل ٹائم بلین ایئر کی فہرست میں ایلون مسک کو پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے جبکہ ان کے بعد اوریکل کے لیری ایلیسن، میٹا کے مارک زکربرگ اور ایمازون کے جیف بیزوس کا نمبر آتا ہے۔
بدھ کے روز کاروباری دن ختم ہونے تک ایلون مسک کی مجموعی مالیت 499.
گزشتہ ماہ 10 ستمبر کو اوریکل کے اسٹاک کی قیمت بڑھ جانے کی وجہ قلیل مدت کے لیے لیری ایلیسن نے ایلون مسک پر سبقت حاصل کرلی تھی۔ تاہم، وہ برقرار نہیں رہ سکی۔
ٹیسلا کے شیئرز کی قیمت میں ستمبر کے وسط میں اس وقت اضافہ ہوا جب ایلون مسک نے ایک ٹرسٹ کے ذریعے تقریبا 1 ارب ڈالر کی (اب تک کی سب سے بڑی) سرمایہ کاری کی۔ اس سبب ٹیسلا کے شیئر کی قیمت NASDAQ مارکیٹ میں ایک دن کے اندر 30 ڈالر تک بڑھ گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔