امریکی ملٹی نیشنل کارپوریشن پروکٹر اینڈ گیمبل کا پاکستان میں اپنی تجارتی سرگرمیاں بند کر نے کااعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
امریکی ملٹی نیشنل کارپوریشن پروکٹر اینڈ گیمبل (پی اینڈ جی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنی پیداوار اور تجارتی سرگرمیاں بند کر دے گی اور ری اسٹرکچرنگ پروگرام کے تحت ’تھرڈ پارٹی ڈسٹری بیوٹرز‘ پر انحصار کرے گی۔
واضح رہے کہ یہ خبر ایسے وقت میں آئی ہے، جب پچھلے تین سالوں میں کئی ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ چکی ہیں، جن میں ایلی لِلی، شیل، مائیکروسافٹ، اوبر اور یاماہا شامل ہیں۔
کیا یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کا معاشی ماحول ملٹی نیشنلز کے لیے غیر موزوں ہے یا اس کے دیگر اسباب ہیں؟ اس حوالے سے جانتے ہیں کہ ماہرین کیا رائے ہے۔
پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے سی ای او احسان ملک کاکہناہے کہ ملٹی نیشنلز کمپنیوں کے انخلا کی متعدد وجوہات ہیں اور ان کی نوعیت ہر شعبے میں مختلف ہے۔
انہوں نے کہا کہ دواسازی کے شعبے میں ایم این سیز قیمتوں میں تبدیلی کی منظوری میں تاخیر اور کچھ مقامی کمپنیوں کی ناقص پروموشنل پالیسیوں کی وجہ سے ملک چھوڑ دیتی ہیں، جبکہ شیل اور پی این جی جیسی کمپنیاں عالمی سطح پر ’کٹیگریز اور جغرافیوں‘ پر فوکس میں تبدیلی کے باعث نکلیں، دیگر وجوہات میں دانشورانہ املاک کے حقوق کے کمزور نفاذ کو بھی شامل کیا۔
انہوں نے کہاکہ مقامی کمپنیوں سے بڑھتی مسابقت، وسیع غیر رسمی شعبہ جات اور کم ہوتے منافع گروپ کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں، جن کے ساتھ بلند ٹیکس اور کمزور روپیہ بھی کاروبار ختم کرنے کے اسباب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمپنیاں اکثر ’سیکیورٹی صورتحال‘ کا بھی حوالہ دیتی ہیں، لیکن کم غیر ملکی افراد کے ساتھ مقامی انتظامیہ نے حالات سے نمٹنا سیکھ لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ جانے کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ مصنوعات اور برانڈز کی پیداوار بند کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈسٹری بیوٹر ماڈل ان کی موجودگی برقرار رکھ سکتا ہے اور ایم این سیز اپنے برانڈز کو فروغ دینے کے لیے تھرڈ پارٹی مارکیٹ ریسرچ اور ایڈورٹائزنگ ایجنسیز پر انحصار کر سکتی ہیں۔
اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ریسرچ ڈائریکٹر اویس اشرف نے کہا کہ ’ہر ملک میں مینوفیکچرنگ سہولت قائم رکھنے کے بجائے کئی کمپنیاں اسٹریٹجک تبدیلی کے تحت اپنے آپریشنز کو ریجنل حب میں منتقل کر رہی ہیں تاکہ وہ اکانومیز آف اسکیل سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقامی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی بڑھتی صلاحیت، زیادہ ہنر مند ورک فورس اور جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال‘ نے یہ سہولت دی ہے کہ ’فزیکل موجودگی کے بغیر بھی مصنوعات کی ہموار تقسیم ممکن ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔