سری لنکا، بنگلا دیش اور نیپال کے بعد مراکش میں نوجوانوں کا حکومت کیخلاف احتجاج؛ ہلاکتیں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
مراکش میں نوجوان حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور 4 روز سے مسلسل بھرپور احتجاج کر رہے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ احتجاج مراکش میں بدعنوانی اور عوامی وسائل کے غیر شفاف استعمال کے خلاف شروع ہوئے جس کی قیادت نوجوان کر رہے ہیں۔
مراکش کی حکومت نے نوجوانوں کے مطالبات منانے کے بجائے احتجاج کو طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی جس پر احتجاجی تحریک شدت اختیار کر گئی۔
آج جنوبی شہر اگادیر کے قریب واقع قصبے لقلیا میں پولیس کی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ میں مزید تین افراد جاں بحق ہوگئے جس سے مجموعی تعداد 7 ہوگئی۔
نوجوان قیادت نے پولیس پر طاقت کے بے دریغ استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نہتے مظاہرین پر براہ راست گولیاں برسائی گئیں۔
ادھر وزیراعظم عزیز اخنوش نے مظاہرین کی قیادت کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے مگر احتجاجی لہر کے فی الحال تھمنے کے آثار نہیں دکھائے رہے ہیں۔
دوسری جانب مراکش کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ مشتعل مظاہرین پولیس سے ہتھیار چھیننے کی کوشش کر رہے تھے۔
پولیس اب تک ایک ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرچکی ہے اور سیکڑوں زخمی اسپتال میں زیر علاج ہیں اس کے باوجود احتجاج کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ یہ تحریک ایک نامعلوم نوجوان گروپ "GenZ 212" نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ڈسکارڈ کے ذریعے منظم کی تھی۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت 2030 ورلڈ کپ کے لیے اربوں ڈالرز اسٹیڈیمز کی تعمیر اور انفراسٹرکچر پر لگا رہی ہے جبکہ عوام اسکول اور اسپتال جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
مظاہرین کے مقبول نعروں میں سے ایک نعرہ یہ بھی ہے کہ "اسٹیڈیم تو بن گئے، اسپتال کہاں ہیں؟"
مراکش کی احتجاجی تحریک کو ماہرین خطے میں حال ہی میں ہونے والی دیگر عوامی بغاوتوں جیسے بنگلادیش، سری لنکا اور نیپال سے جوڑ رہے ہیں۔
جہاں عوامی احتجاج کے ذریعے کرپٹ اور آمر حکومتوں کو ختم کیا گیا اور شفاف انتخابات کی راہ ہموار کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رہے ہیں
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔