پاکستان تحریک انصاف نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر پولیس کے دھاوے اور صحافیوں و کشمیری مظاہرین پر تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی شعبہ اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پرامن کشمیری مظاہرین اور صحافیوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، خواتین سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا، پریس کلب کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ حکومت نہ تو کشمیری عوام کے جائز احتجاج برداشت کر سکتی ہے اور نہ ہی آزاد صحافت کو۔ حکومتی وزرا کی جانب سے محض نوٹس اور معافی کو اس بربریت کے سامنے ایک مذاق قرار دیا گیا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد پریس کلب میں پولیس داخل اور توڑ پھوڑ، ’اب تو صحافی پریس کلب میں بھی محفوظ نہیں’

پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث پولیس افسران اور ذمہ دار حکام کو فوری طور پر معطل کرکے گرفتار کیا جائے، زخمی صحافیوں اور کشمیری مظاہرین کو معاوضہ اور بہترین علاج فراہم کیا جائے، جبکہ آزاد عدالتی کمیشن قائم کرکے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

پاکستان تحریک انصاف نے واضح کیا کہ یہ حکومت اپنی ناکامیوں اور کشمیری عوام پر مظالم چھپانے کے لیے صحافیوں اور مظاہرین پر طاقت استعمال کر رہی ہے۔

پی ٹی آئی نے اعلان کیا کہ وہ کشمیری عوام، صحافی برادری اور جمہوری حقوق کے ساتھ کھڑی ہے اور اگر انصاف نہ ملا تو ملک گیر احتجاج سمیت ہر قانونی و سیاسی محاذ پر حکومت کو بے نقاب کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی آئی کا سخت ردعمل صحافیوں پر تشدد نیشنل پریس کلب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کا سخت ردعمل صحافیوں پر تشدد نیشنل پریس کلب پی ٹی آئی پریس کلب

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل