data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مراکش میں بدعنوانی اور عوامی وسائل کے غیر شفاف استعمال کے خلاف نوجوانوں کی قیادت میں شروع ہونے والا احتجاج چوتھے روز بھی جاری رہا اور اب اس نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔

جنوبی شہر اگادیر کے نزدیک واقع علاقے لقلیا میں پولیس نے نہتے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں مزید 3 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اب ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 7 تک پہنچ گئی۔

مقامی ذرائع کے مطابق زخمیوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے، جن میں سے کئی نازک حالت میں اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جبکہ ایک ہزار سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق یہ تحریک ایک نامعلوم گروپ GenZ 212 نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر منظم کی، جس کے بعد ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے، جن کا بنیادی مطالبہ ہے کہ حکومت اربوں ڈالر اسٹیڈیمز اور انفراسٹرکچر پر خرچ کرنے کے بجائے عوام کو اسپتالوں اور اسکولوں جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کرے۔

احتجاج کے دوران ایک مقبول نعرہ گونجتا رہا کہ اسٹیڈیم تو بن گئے، اسپتال کہاں ہیں؟

وزیراعظم عزیز اخنوش نے مظاہرین کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے مگر زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے، کیونکہ پولیس طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ انتظامیہ پرامن اجتماع کو کچلنے کے لیے براہ راست گولیاں چلا رہی ہے، جب کہ وزارت داخلہ کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین پولیس سے ہتھیار چھیننے کی کوشش کر رہے تھے۔

یہ تحریک ماہرین کے نزدیک خطے کی ان حالیہ عوامی بغاوتوں کا تسلسل ہے، جو بنگلا دیش، سری لنکا اور نیپال میں دیکھی گئیں، جہاں عوامی دباؤ کے نتیجے میں کرپٹ اور آمر حکومتیں ختم ہوئیں اور شفاف انتخابات کی راہ ہموار ہوئی۔

اس وقت مراکش میں بھی سیاسی و سماجی بے چینی اپنے عروج پر ہے اور حالات بتاتے ہیں کہ یہ احتجاج فوری طور پر ختم ہونے والا نہیں بلکہ مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف