سندھ بلڈنگ ،اسکیم 33میں غیر قانونی تعمیرات کا طوفان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اسسٹنٹ ڈائریکٹر عدیل قریشی کی سرپرستی میں رانا ریزیڈنسی کی غیر قانونی تعمیر
تعمیراتی گینگ کی کھلی ڈکیتیاں، شہریوں کے بنیادی حقوق کا قتل عام جاری
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے عملے کی ملی بھگت کے تحت اسکیم 33 میں غیر قانونی تعمیرات کا طوفان برپا ہے ، جہاں ’’رانا ریزیڈنسی‘‘کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق کا کھلم کھلا قتلِ عام کیا جا رہا ہے !یہ گورکھ دھندہ مبینہ طور پر عدیل قریشی کی قیادت میں چل رہا ہے۔یہ تعمیراتی ڈاکو گینگ کھلی ڈکیتی پر اتر آیا ہے ۔ یہ گینگ سرعام قوانین کو روندتا ہے ، ضابطوں کو تارتار کرتا ہے ، اور شہریوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رہا ہے ۔رانا ریزیڈنسی ایک مجرمانہ منصوبہ،یہ کوئی رہائشی منصوبہ نہیں بلکہ ایک مجرمانہ کارروائی ہے جس میںبغیر منظور شدہ نقشے کے تعمیر میں بلڈنگ قوانین قبر میں دفن، پارکنگ کے بغیر عمارت کا قتل عام، سیوریج سسٹم کا قتل، آگ سے بچاؤ کے انتظامات کا جنازہ، گرین ایریا کی بے حرمتی، فلور ایریا تناسب کی پامالی، ہائٹ کنٹرول کی توہین سے مقامی شہریوں کا غصہ پھٹ پڑا ہے جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر عدیل قریشی اور اس کے ساتھی ہماری زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ رانا ریزیڈنسی نے ہمارے علاقے کو جہنم بنا دیا ہے ۔ایس بی سی اے کے اندرونی ذرائع کے مطابق عدیل قریشی ملکی محصولات کو بھاری نقصان پہنچانے کے باوجود بھی احتساب کے خوف سے بالاتر ہے ۔ اسے معلوم ہے کہ اس کے تحفظ کے لیے اعلیٰ سطحی رابطے موجود ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی خاموشی اس بات کی غماز ہے کہ یا تو وہ مجرموں کے ساتھ ملی بھگت میں ملوث ہے یا پھر انتہائی نااہل ہے ۔ دونوں صورتوں میں وہ عوام کے ساتھ غداری کا مرتکب ہو رہی ہے ۔مقامی شہریوں نے واضح کر دیا ہے اگر رانا
ریزیڈنسی کی تعمیراتی ڈکیتی بند نہ ہوئی تو ہمارا احتجاج سڑکوں پر نہیں بلکہ ایس بی سی اے کے دفاتر میں ہوگا۔ ہم اب مزید خاموش نہیں بیٹھیں گے !ذرائع بتاتے ہیں کہ محض انکوائری کا ڈرامہ کیا جا رہا ہے ۔ حقیقی کارروائی سے تمام مجرم محفوظ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: رانا ریزیڈنسی عدیل قریشی رہا ہے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔