اسرائیلی بحریہ نے انسانی ہمدردی پر مبنی ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے تمام جہاز روک لیے، جو محصور غزہ کے لیے امداد لے جا رہے تھے۔ جمعے کی صبح پولینڈ کے پرچم تلے چلنے والا ’ماری نیٹ‘ نامی آخری جہاز بھی قبضے میں لے لیا گیا۔ اس جہاز پر 6 رکنی عملہ سوار تھا۔

گرفتاریاں اور بھوک ہڑتال

بین الاقوامی کمیٹی برائے محاصرہ توڑنے کی تنظیم کے مطابق اسرائیلی فورسز نے 40 سے زائد ممالک کے تقریباً 500 کارکنان کو گرفتار کیا۔ بعض حراست میں لیے گئے کارکنوں نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔

Global Sumud Flotilla: Israel intercepts final boat, detains activists

Israeli occupation forces on Friday morning intercepted the final boat, the Marinette, from the Global Sumud Flotilla that was on its way to Gaza.

pic.twitter.com/rbw6qC0Aq2

— Maktoob (@MaktoobMedia) October 3, 2025

سرگرم کارکن اور عالمی شخصیات بھی حراست میں

گرفتار شدگان میں معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، بارسلونا کی سابق میئر آدا کولو اور یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن بھی شامل ہیں۔ تمام افراد کو اسرائیل منتقل کر کے بعد میں ملک بدر کیا جائے گا۔

عالمی ردِعمل اور مذمت

اسرائیلی اقدام پر دنیا بھر میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے اسرائیلی سفارتکاروں کو ملک سے نکالنے اور آزاد تجارتی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Breaking ????

The Israeli army intercepted the last ship of the Global Sumud Flotilla, Marinette, and kidnapped the activists on board while they were trying to break the Israeli siege on #Gaza pic.twitter.com/0BrAVEnckQ

— ‏الـشـبـ????ـراوي ‌‎#غـزَّة⁩ (@M_shebrawy3) October 3, 2025

اسی طرح یورپی ممالک، جن میں جرمنی، فرانس، برطانیہ، اسپین، یونان اور آئرلینڈ شامل ہیں، نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گرفتار کیے گئے عملے کے حقوق کا احترام کرے۔

اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے فلسطین فرانچیسکا البانیزے نے اس کارروائی کو ’غیر قانونی اغوا‘ قرار دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی

انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل اسٹیفن کاٹن نے کہا کہ بین الاقوامی پانیوں میں غیر مسلح انسانی ہمدردی کے جہازوں پر قبضہ غیر قانونی ہے۔ ان کے مطابق سمندروں کو ’جنگ کا میدان‘ نہیں بنایا جا سکتا۔

واضح رہے کہ ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘  اب تک کی سب سے بڑی بحری امدادی مہم تھی جس نے غزہ کے محاصرے کو توڑنے کی کوشش کی۔ 44 جہازوں پر مشتمل اس فلوٹیلا نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی، مگر اسرائیل نے سب کو روک کر اپنے قبضے میں لے لیا۔

اس اقدام کے بعد دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور غزہ کے شہری اب بھی محاصرہ اور جنگ کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آخری کشتی اسرائیل صمود فلوٹیلا غزہ کشتی کولمبیا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا خری کشتی اسرائیل صمود فلوٹیلا کشتی کولمبیا صمود فلوٹیلا بین الاقوامی

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم