سیلابی نقصانات کم کرنے کیلیے قلیل اور وسط مدت کے فریم ورک پر کام شروع
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اسلام آباد:
سیلابی نقصانات کم کرنے کے لیے پاکستان انجینئرنگ کونسل نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے قلیل اور وسط مدت کے فریم ورک پر کام شروع کر دیا۔
پی ای سی کی جانب سے ماہرین کی اعلیٰ سطحی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ عالمی ماہرین، وفاقی و صوبائی افسران اور ڈونر ایجنسیوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
کانفرنس میں سیلابی چیلنجز پر قابو پانے کے لیے جامع حکمت عملی پر مشاورت ہوئی۔
پی ای سی نے قلیل المدتی 12 ماہ کا ایکشن پلان تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا، ایک سے تین سال پر محیط وسط مدتی حکمت عملی بھی فریم ورک کا حصہ ہوگی۔
منصوبوں کا مقصد ہنگامی ردعمل کے بجائے مؤثر اور مربوط نظام اپنانا ہے۔ فریم ورک سے کمیونٹیز، روزگار اور بنیادی سہولیات پر سیلابی اثرات کم ہوں گے۔ سیلاب کے نقصانات سے زرعی پیداوار اور فوڈ سکیورٹی کو تحفظ دینے کا ہدف ایکشن پلان کا حصہ ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت پر سیلابی دباؤ کم کرنے کے لیے پیشگی حکمت عملی ضروری ہے۔
چیئرمین پی ای سی انجینئر وسیم نذیر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں اداروں کو معمول سے ہٹ کر کام کرنا ہوگا، 2026 اور اس کے بعد کے برسوں کے لیے سیلاب ریزیلینس فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے، انجینئرنگ کونسل حکومت اور اداروں کے ساتھ قریبی اشتراک کیلئے پرعزم ہے۔
انجینئر وسیم نذیر کا کہنا تھا کہ آئندہ سالوں میں سیلابی نقصانات میں نمایاں کمی لانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ فریم ورک میں زراعت، مویشی اور عوامی معیشت کو بچانے کے لیے اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔
ماہرین کی آراء پر مشتمل ایکشن پلان تیار کرکے عمل درآمد کے لیے حکومت کو بھیجا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔