data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیجنگ: چین نے دنیا بھر کے نوجوان سائنسدانوں اور ٹیکنالوجی ماہرین کے لیے ایک انقلابی فیصلہ کرتے ہوئے K ویزا کے نام سے خصوصی پروگرام متعارف کرادیا ہے، جو یکم اکتوبر 2025 سے باقاعدہ نافذ ہوچکا ہے۔

اس پروگرام کا مقصد سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ میٹکس (STEM) کے شعبوں میں مہارت رکھنے والے باصلاحیت افراد کو اپنی جانب راغب کرنا اور چین میں تحقیق، تعلیم اور اختراعی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔

یہ ویزا ان غیر ملکی ماہرین کے لیے رکھا گیا ہے جو کسی معتبر یونیورسٹی یا تحقیقی ادارے سے کم از کم بیچلر ڈگری رکھتے ہوں۔ درخواست دہندگان کی عمر کی حد عموماً 45 سال مقرر کی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان سائنسدان اور محققین اس موقع سے استفادہ کرسکیں۔

اس ویزے کے ذریعے چین میں داخلہ، قیام، تحقیق، تعلیمی تبادلے، کاروباری سرگرمیاں اور اختراعی منصوبوں پر کام کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔

اس پروگرام کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے لیے کسی چینی کمپنی یا ادارے کی طرف سے دعوت نامے یا ملازمت کی پیشگی ضمانت کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اس سہولت سے ان افراد کو براہ راست فائدہ ہوگا جو اپنی تحقیق یا تعلیمی بنیاد پر چین آنا چاہتے ہیں لیکن پہلے اسپانسر تلاش کرنا ان کے لیے مشکل تھا۔ مزید یہ کہ Kویزا پروگرام میں قیام کی مدت اور ویزہ کی مدت کے حوالے سے بھی غیر معمولی لچک رکھی گئی ہے، جو دیگر روایتی ویزا پالیسیوں سے اسے منفرد بناتا ہے۔

فی الحال اس ویزے کے حوالے سے کچھ اہم تفصیلات واضح ہونا باقی ہیں۔ مثلاً کن یونیورسٹیوں کو معتبر قرار دیا جائے گا، کس قسم کے تحقیقی یا عملی تجربے کو قابلِ قبول سمجھا جائے گا اور درخواست دہندگان کو کن دستاویزات کی ضرورت ہوگی۔

اسی طرح یہ سوال بھی ابھی سامنے آیا ہے کہ آیا اس ویزا پروگرام کے تحت چین میں مستقل رہائش یا شہریت کا راستہ فراہم کیا جائے گا یا نہیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ ویزا مخصوص مدت کے لیے عارضی بنیادوں پر ہوگا تاکہ ماہرین اپنی مہارت کے ذریعے چین کے تعلیمی اور تحقیقی ڈھانچے کو تقویت دے سکیں۔

عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم چین کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے دنیا کے بہترین دماغوں کو اپنی سرزمین پر متوجہ کرنا چاہتا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف چین کی جامعات اور تحقیقی ادارے مستفید ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی سائنس و ٹیکنالوجی میں تعاون کے نئے راستے کھلیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم