چین کا خصوصی ویزا پروگرام: سائنس و ٹیکنالوجی کے ماہرین کیلیے نئے مواقع
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ: چین نے دنیا بھر کے نوجوان سائنسدانوں اور ٹیکنالوجی ماہرین کے لیے ایک انقلابی فیصلہ کرتے ہوئے K ویزا کے نام سے خصوصی پروگرام متعارف کرادیا ہے، جو یکم اکتوبر 2025 سے باقاعدہ نافذ ہوچکا ہے۔
اس پروگرام کا مقصد سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ میٹکس (STEM) کے شعبوں میں مہارت رکھنے والے باصلاحیت افراد کو اپنی جانب راغب کرنا اور چین میں تحقیق، تعلیم اور اختراعی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
یہ ویزا ان غیر ملکی ماہرین کے لیے رکھا گیا ہے جو کسی معتبر یونیورسٹی یا تحقیقی ادارے سے کم از کم بیچلر ڈگری رکھتے ہوں۔ درخواست دہندگان کی عمر کی حد عموماً 45 سال مقرر کی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان سائنسدان اور محققین اس موقع سے استفادہ کرسکیں۔
اس ویزے کے ذریعے چین میں داخلہ، قیام، تحقیق، تعلیمی تبادلے، کاروباری سرگرمیاں اور اختراعی منصوبوں پر کام کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔
اس پروگرام کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے لیے کسی چینی کمپنی یا ادارے کی طرف سے دعوت نامے یا ملازمت کی پیشگی ضمانت کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اس سہولت سے ان افراد کو براہ راست فائدہ ہوگا جو اپنی تحقیق یا تعلیمی بنیاد پر چین آنا چاہتے ہیں لیکن پہلے اسپانسر تلاش کرنا ان کے لیے مشکل تھا۔ مزید یہ کہ Kویزا پروگرام میں قیام کی مدت اور ویزہ کی مدت کے حوالے سے بھی غیر معمولی لچک رکھی گئی ہے، جو دیگر روایتی ویزا پالیسیوں سے اسے منفرد بناتا ہے۔
فی الحال اس ویزے کے حوالے سے کچھ اہم تفصیلات واضح ہونا باقی ہیں۔ مثلاً کن یونیورسٹیوں کو معتبر قرار دیا جائے گا، کس قسم کے تحقیقی یا عملی تجربے کو قابلِ قبول سمجھا جائے گا اور درخواست دہندگان کو کن دستاویزات کی ضرورت ہوگی۔
اسی طرح یہ سوال بھی ابھی سامنے آیا ہے کہ آیا اس ویزا پروگرام کے تحت چین میں مستقل رہائش یا شہریت کا راستہ فراہم کیا جائے گا یا نہیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ ویزا مخصوص مدت کے لیے عارضی بنیادوں پر ہوگا تاکہ ماہرین اپنی مہارت کے ذریعے چین کے تعلیمی اور تحقیقی ڈھانچے کو تقویت دے سکیں۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم چین کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے دنیا کے بہترین دماغوں کو اپنی سرزمین پر متوجہ کرنا چاہتا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف چین کی جامعات اور تحقیقی ادارے مستفید ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی سائنس و ٹیکنالوجی میں تعاون کے نئے راستے کھلیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔(جاری ہے)
ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔