پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کے شناختی کارڈ، موبائل سمز اور پاسپورٹ بلاک کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ منصوبے کے تحت ان والدین کے قومی شناختی کارڈ، موبائل فون سمز اور پاسپورٹ بلاک کیے جا سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ’پولیو ویکسین انکار سیل‘ قائم کرنے اور یونین کونسل کی سطح پر انکاری والدین کی تفصیلات طلب کرنے کا حکم دیا۔
مزید پڑھیں: سندھ میں پولیو کے 2 نئے کیس رپورٹ، رواں برس میں مجموعی تعداد 29 ہوگئی
انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، لاپرواہی برتنے والے افسران کو ہٹا دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ سندھ میں رواں برس پولیو کے 9 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں کراچی اور ملیر کے کیسز والدین کے انکار سے جڑے ہیں، جبکہ ماحولیاتی نمونوں میں بھی شہر کے مختلف علاقوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پلانے سے انکار پولیو کے قطرے سندھ شناختی کارڈ بلاک مراد علی شاہ موبائیل سمز بلاک والدین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پلانے سے انکار پولیو کے قطرے شناختی کارڈ بلاک مراد علی شاہ موبائیل سمز بلاک والدین والدین کے پولیو کے
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔