جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ صحافی پرامن لوگ ہیں اور اپنا دائرہ کار خوب جانتے ہیں، پریس کلب میں صحافیوں پر تشدد کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، صحافیوں کا احتجاج حق بجانب ہے اور وہ ہر حال میں ان کے شانہ بشانہ ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر پولیس گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل وقت میں وہ صحافی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صحافیوں پر تشدد: وزیرداخلہ محسن نقوی کا نوٹس، آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کرلی

مولانا فضل الرحمٰن وفاقی پولیس اہلکاروں کے صحافیوں پر تشدد کے خلاف اظہارِ یکجہتی کے لیے نیشنل پریس کلب پہنچے اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جہاں پولیس نے نہ صرف صحافیوں پر تشدد کیا بلکہ ان کی تضحیک بھی کی۔

امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان مدظلہ کا اسلام آباد پریس کلب میں صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی pic.

twitter.com/24BVEBnyXL

— Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan (@juipakofficial) October 3, 2025

انہوں نے کہا کہ صحافی پُرامن لوگ ہیں اور اپنا دائرہ کار بخوبی جانتے ہیں۔ ہر چار دیواری کا تقدس ہوتا ہے لیکن پریس کلب میں موجود صحافی نہ تو فیلڈ میں تھے اور نہ ہی انہوں نے قانون ہاتھ میں لیا تھا، اس کے باوجود پولیس اہلکار اندر گھس آئے اور تشدد کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صحافیوں کا احتجاج حق بجانب ہے اور وہ ہر حال میں ان کے شانہ بشانہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جے یو آئی کے بغیر حکومتیں بنتی نہیں یا چلتی نہیں، مولانا فضل الرحمان

واضح رہے کہ 2 اکتوبر کو عوام ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر کی حمایت میں چند مظاہرین نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر احتجاج کر رہے تھے۔ پولیس کے وہاں پہنچنے پر کچھ مظاہرین کلب کے اندر چلے گئے، جنہیں گرفتار کرنے کے لیے اہلکار بھی اندر گھس گئے۔

اس دوران نہ صرف مظاہرین کو گرفتار کیا گیا بلکہ صحافیوں اور کلب کے ملازمین پر بھی تشدد کیا گیا۔ پولیس اہلکاروں نے ایک فوٹو گرافر کا کیمرا توڑنے اور کیفے ٹیریا میں توڑ پھوڑ کرنے کا بھی الزام ہے۔

قبل ازیں کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز (ایمنڈ) اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے بھی اسلام آباد پریس کلب پر پولیس کے دھاوے کی مذمت کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسلام آباد پولیس جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان نیشنل پریس کلب

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد پولیس جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان نیشنل پریس کلب مولانا فضل الرحمان صحافیوں پر تشدد نیشنل پریس کلب کہ صحافی تشدد کی

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت