شیرانی، سکیورٹی فورسز کا آپریشن، بھارتی حمایت یافتہ 7 دہشت گرد جہنم واصل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آپریشن خفیہ اطلاع پر کیا گیا جس میں دہشت گرد گروہ "فتنہ الخوارج" سے تعلق رکھنے والے بھارتی حمایت یافتہ 7 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع شیرانی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارتی حمایت یافتہ 7 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آپریشن خفیہ اطلاع پر کیا گیا جس میں دہشت گرد گروہ "فتنہ الخوارج" سے تعلق رکھنے والے عناصر نشانہ بنے، کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع شیرانی میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا اور سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔
وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ نہتے اور معصوم شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے والے دہشتگردوں کو شکست فاش دی گئی، حکومت اور سکیورٹی ادارے ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہیں اور اس سلسلے میں ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ شہباز شریف نے قرار دیا ہے کہ پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے خواہشمند عناصر کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور دہشتگردی کی عفریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔
علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے ضلع شیرانی میں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر سکیورٹی فورسز کی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے دہشت گردوں کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیئے، سات دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے والے بہادر جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں قیام امن کے لیے سکیورٹی فورسز کی کامیابیاں قابل تحسین ہیں، قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارتی حمایت یافتہ سکیورٹی فورسز جہنم واصل گردوں کو
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔