پی آئی اے کی برطانیہ کیلئے پروازیں رواں ماہ سے بحال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
ویب ڈیسک : پاکستانی ہائی کمیشن لندن نے اعلان کیا ہے کہ قومی ایئر لائن پی آئی اے کی برطانیہ کے لئے پروازیں رواں ماہ سے بحال کی جارہی ہیں۔
ہائی کمیشن کے مطابق برطانوی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پی آئی اے کو فارن ایئرکرافٹ آپریٹنگ پرمٹ جاری کردیا ہے جس کے بعد پروازوں کی بحالی ممکن ہوسکی ہے۔ ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں مانچسٹر کے لیے پروازیں چلائی جائیں گی جبکہ دوسرے مرحلے میں لندن اوربرمنگھم کے لیے بھی سروسزشروع ہوں گی۔
حماس اتوار تک معاہدہ قبول کرلے ورنہ سب مارے جائیں گے، ٹرمپ کی ڈیڈلائن
پی آئی اے کی پروازوں کی بحالی سے برطانیہ میں مقیم 17 لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد کمیونٹی کو سہولت ملے گی جو طویل عرصے سے براہ راست فضائی سروس کی بحالی کے منتظر تھے۔ پاکستانی ہائی کمیشن کے مطابق پروازوں کی بحالی نہ صرف مسافروں کے لئے آسانی پیدا کرے گی بلکہ تجارتی اور سماجی روابط کو بھی فروغ دے گی۔
واضح رہے کہ پی آئی اے کی برطانیہ کے لیے پروازیں کئی برس سے معطل تھیں، تاہم اب پرمٹ ملنے کے بعد دوبارہ آپریشن شروع ہونے جا رہا ہے جو ایک خوش آئند پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
قومی ٹیم کے سپینر ابرار احمد کل رشتہ ازدواج میں منسلک ہوں گے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پی آئی اے کی ہائی کمیشن کی بحالی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔