حشد الشعبی فورسز نے شامی سرحد پر داعش کے تین ٹھکانے تباہ کر دیئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
ذرائع کے مطابق تینوں ٹھکانوں کے اندر دھماکہ خیز مواد کے پیکٹ اور بم چھپائے گئے تھے۔ یہ کارروائی درست انٹیلی جنس ڈیٹا کی بنیاد پر کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ عراقی ذرائع نے داعش تکفیری دہشت گردوں کیخلاف حشد الشعبی فورسز نے کامیابی کارروائی کرتے ہوئے داعش کے ٹھکانے تباہ کرنیکی خبر دی ہے۔ حشد الشعبی نے عراق کے صوبہ انبار کے مغربی علاقوں میں کارروائی میں تکفیری دہشت گردوں کے تین ٹھکانوں کو تباہ کر دیا ہے۔ عراقی ذرائع نے شام کی سرحد سے متصل صوبہ انبار کے مغرب میں حشد الشعبی کی طرف سے کارروائیاں جاری رکھنے کی اطلاع دی ہے۔ ان ذرائع کے مطابق تینوں ٹھکانوں کے اندر دھماکہ خیز مواد کے پیکٹ اور بم چھپائے گئے تھے۔ یہ کارروائی درست انٹیلی جنس ڈیٹا کی بنیاد پر کی گئی۔ واضح رہے کہ حشد الشعبی تکفیری دہشت گردوں کیخلاف موصل سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حشد الشعبی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔