پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے سگریٹ بنانے والی کمپنی فلپ مورس کی ڈی لسٹ کرنے کی درخواست منظور کر لی
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے سگریٹ بنانے والی بڑی کمپنی فلپ مورس کی انڈیکس سے رضاکارانہ ڈی لسٹ کرنے کی درخواست منظور کر لی۔
یہ بات جمعہ کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں بتائی گئی۔
اس کا ہیڈ کوارٹر اسٹیمفورڈ کنیٹی کٹ میں واقع ہے، فلپ مورس پاکستان میں کام کرنے والی نمایاں تمباکو کمپنیوں میں سے ایک ہے اور اس کی مصنوعات میں مارلبرو، پارلیمنٹ، مورون بائے چیسٹر فیلڈ، ڈپلومیٹ، کے ٹو اور ریڈ اینڈ وائٹ جیسے سگریٹ برانڈز شامل ہیں۔
پی ایس ایکس نے کہا کہ فلپ مورس کو پی ایس ایکس ریگولیشن 5.
پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ’کمپنی کے وہ شیئر ہولڈرز جو اسپانسرز کی جانب سے حصص کی دوبارہ خریداری کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، انہیں ٹاپ لائن سیکیورٹیز سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔‘
“کمپنی کے اسپانسر اور پرچیز ایجنٹ پہلے ہی اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اقلیتی شیئر ہولڈرز کے پاس موجود باقی ماندہ حصص فی شیئر ایک ہزار 300 کی قیمت پر خریدیں گے، اور یہ پیشکش 29 ستمبر 2026 تک کے لیے مؤثر ہے۔’
پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ حصص کی دوبارہ خریداری کی پیشکش 29 ستمبر 2026 تک برقرار رہے گی۔
یاد رہے کہ رواں سال مئی میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کو آگاہ کیا گیا تھا کہ فلپ مورس پاکستان کی سب سے بڑی تمباکو کمپنی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فلپ مورس
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔