پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے سگریٹ بنانے والی بڑی کمپنی فلپ مورس کی انڈیکس سے رضاکارانہ ڈی لسٹ کرنے کی درخواست منظور کر لی۔

یہ بات جمعہ کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں بتائی گئی۔

اس کا ہیڈ کوارٹر اسٹیمفورڈ کنیٹی کٹ میں واقع ہے، فلپ مورس پاکستان میں کام کرنے والی نمایاں تمباکو کمپنیوں میں سے ایک ہے اور اس کی مصنوعات میں مارلبرو، پارلیمنٹ، مورون بائے چیسٹر فیلڈ، ڈپلومیٹ، کے ٹو اور ریڈ اینڈ وائٹ جیسے سگریٹ برانڈز شامل ہیں۔

پی ایس ایکس نے کہا کہ فلپ مورس کو پی ایس ایکس ریگولیشن 5.

14 اور سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کی دفعہ 19 (5) کے تحت رضاکارانہ طور پر ڈی لسٹ کیا گیا ہے، مزید بتایا گیا کہ ڈی لسٹنگ پیر 6 اکتوبر سے مؤثر ہو جائے گی۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ’کمپنی کے وہ شیئر ہولڈرز جو اسپانسرز کی جانب سے حصص کی دوبارہ خریداری کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، انہیں ٹاپ لائن سیکیورٹیز سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔‘

“کمپنی کے اسپانسر اور پرچیز ایجنٹ پہلے ہی اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اقلیتی شیئر ہولڈرز کے پاس موجود باقی ماندہ حصص فی شیئر ایک ہزار 300 کی قیمت پر خریدیں گے، اور یہ پیشکش 29 ستمبر 2026 تک کے لیے مؤثر ہے۔’

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ حصص کی دوبارہ خریداری کی پیشکش 29 ستمبر 2026 تک برقرار رہے گی۔

یاد رہے کہ رواں سال مئی میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کو آگاہ کیا گیا تھا کہ فلپ مورس پاکستان کی سب سے بڑی تمباکو کمپنی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: فلپ مورس

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی