سمندری طوفان ’شکتی‘ کراچی سے 390 کلومیٹر دور، آج بارش کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
محکمہ موسمیات کے سائیکلون وارننگ سینٹر کراچی نے شمال مشرقی بحیرہ عرب میں بننے والے سمندری طوفان شکتی سے متعلق ساتواں الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ طوفان کے زیر اثر آج کراچی، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، جامشورو، حب، لسبیلہ، آواران، کیچ کے اضلاع میں چند مقامات پر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے درمیانی شدت کی بارش کا امکان ہے۔
جاری الرٹ کے مطابق شمال مشرقی بحیرہ عرب میں آنے والا سمندری طوفان "شکتی" گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران مغرب کی طرف بڑھ گیا، اسی علاقے میں مزید شدید طوفان میں تبدیل ہوا ہے اور اب اس کا مرکز کراچی سے تقریباً 390 کلومیٹر جنوب-جنوب مغرب میں ہے۔
یہ 5 اکتوبر تک مغرب-جنوب مغرب کی طرف بڑھنے اور شمال مغرب اور ملحقہ وسطی شمالی بحیرہ عرب تک پہنچنے کا امکان ہے، 24 گھنٹوں کے دوران دوبارہ مڑ کر مشرق-شمال مشرق کی طرف بڑھے گا اور بتدریج کمزور ہو جائے گا۔
اس کے زیر اثر آج کراچی،بدین، ٹھٹھہ، سجاول، جامشورو، حب، لسبیلہ، آواران، کیچ کے اضلاع میں چند مقامات پر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے درمیانی شدت کی بارش کا امکان ہے۔
سندھ کے ساحل کے قریب 55 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتارسے تیز ہوائیں چلنے کے ساتھ سمندری حالات خراب سے انتہائی خراب رہنے کا امکان ہے، ماہی گیروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ 7 اکتوبر تک گہرے سمندر میں نہ جائیں۔
4 اکتوبر کی شام تک سسٹم کے مرکز میں ہوائیں ابتداء میں 110 کلومیٹر بعدازاں 125 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جائے گی، شدید طوفان کی وجہ سے شمالی بحیرہ عرب میں سمندری لہریں انتہائی اونچی رہنے کی توقع ہے، سائیکلون وارننگ سینٹر کراچی سسٹم کی نگرانی کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا امکان ہے
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔