ایچ پی وی ویکسین کیچ اپ مہم کا آج آخری روز ہے۔ پنجاب سروایئکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم میں 90 فی صد کوریج کے ساتھ ملک بھر میں سرفہرست ہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیرصحت و آبادی خواجہ عمران نذیر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی وجہ سے ویکسین نہ لگوانے والی بچیوں کے والدین آج مراکز صحت سے یہ ویکسینیشن لگوا سکتے ہیں۔تمام چیلنجز اور جھوٹے پراپیگنڈے کے باوجود توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات کی ٹیم نے محنت اور لگن سے کام کیا۔ ایچ پی وی ویکسینیشن مہم میں 9 سے 14 سال کی 67 لاکھ بچیوں کو ٹیکہ جات لگائے گئے۔ وزیر صحت و آبادی کی جانب سے کامیاب ایچ پی وی ویکسی نیشن مہم کے انعقاد پر توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی گئی۔ سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین اب معمول کے کورس میں شامل کر لی گئی ہے۔ حفاظتی ٹیکہ جات کے کورس میں اب سے یہ ویکسین نو سال کی بچیوں کے لئے میسر ہو گی۔ ای پی آئی پنجاب کے معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کی فہرست میں یہ 13 ویں ویکسین ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سروائیکل کینسر 15 سے 44 سال کی خواتین میں دوسراسب سے عام کینسر ہے۔ ایچ پی وی واحد کینسر ہے جس سے بچاؤاس ویکسین کے ذریعے ممکن ہے۔کچھ ڈیجیٹل عطائی اپنے فالورز بڑھانے کے لیے انسانی جانوں سے کھیلنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ویکسین عالمی ادارہ صحت سے تصدیق شدہ ہے۔دنیا کے 147 ممالک ایچ پی وی ویکسین کو اپنی معمول کی حفاظتی ٹیکہ جات فہرست میں شامل کر چکے ہیں۔ خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب، قطر، یو اے ای، لیبیا، کویت اور مراکش بھی اس ویکسین کو استعمال کر رہے ہیں۔والدین صرف مستند ذرائع سے معلومات لیں یا کوالیفائڈ معالج سے مشورہ لیں۔ مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے محکمہ صحت و آبادی کی ہیلتھ لائن 1033 اور قومی ہیلپ لائن 1166 سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ایچ پی

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے