پنجاب حکومت نے نواز شریف کینسر ہسپتال کا پہلا بورڈ آف گورنرز تشکیل دیدیا؛ نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
سٹی 42 : پنجاب حکومت نے نواز شریف کینسر ہسپتال کا پہلا بورڈ آف گورنرز تشکیل دے دیا ۔
پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز کی منظوری کے بعد 13 رکنی بورڈ آف گورنرز کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے مطابق وزیر اعلی مریم نواز بورڈ آف گورنرز کی چیئرپرسن ہوں گی۔ صحت کے دونوں محکموں سمیت خزانہ ، قانون ، پی اینڈ ڈی کے سیکریٹری بورڈ میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نواز شریف کینسر ہسپتال کے ڈین و ہاسپٹل ڈائریکٹر بورڈ کے رکن نامزد کیے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات 16 اکتوبر کو منعقد ہوں گے
نوٹیفکیشن کے مطابق سابق چیف سیکرٹری کیپٹن(ر) زاہد سعید، پروفیسر زیبا عزیز ، پروفیسر حسن پرویز ، محمد علی لطیف بورڈ کے رکن نامزد کیے گئے ہیں۔ ا سکے علاوہ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان بھی بورڈ میں شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ نواز شریف کینسر ہسپتال کا بورڈ آف گورنرز 3 سالہ مدت کیلئے قائم کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نواز شریف کینسر ہسپتال بورڈ آف گورنرز
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔