وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی سابق وزیرِ اعظم اور صدر مسلم لیگ ن محمد نواز شریف سے جاتی امرا میں ملاقات،حالیہ بیرونی دوروں کےحوالے سے آگاہ کیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 اکتوبر2025ء) وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےاپنے بڑے بھائی، سابق وزیرِ اعظم اور صدر مسلم لیگ (ن ) محمد نواز شریف سے جاتی امرا میں ملاقات کی اور انہیں اپنے حالیہ بیرون ملک دوروں کے حوالے سے آگاہ کیا۔
(جاری ہے)
پی ایم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے محمد نواز شریف کو آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال اور کامیاب مذاکرات کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی۔
کل (اتوار کو )وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف ملائیشین ہم منصب انور ابراہیم کی دعوت پر ملائیشیا کے دو روزہ دورے پر روانہ ہوں گے۔ملائیشیا کے وزیرِاعظم نے محمد نواز شریف کو بھی دورہ ملائیشیا کی دعوت دی تھی مگر انہوں نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کسی اور مناسب وقت پر یہ دورہ کرنے کی بات کی۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے محمد نواز شریف
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔