خوشحال سندھ کے عوام کی حالت زار ناقص گورننس کی بدترین مثال ہے، کاشف سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
اجلاس سے خطاب میں جماعت اسلامی سندھ کے امیر نے کہا کہ نومبر میں لاہور میں جماعت اسلامی کا اجتماع تاریخی ثابت ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ خوشحال سندھ کے عوام کی حالت زار ناقص گورننس کی بدترین مثال ہے، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو بتانا چاہیے کہ 2000 ارب روپے سے زائد خرچ کرنے کے باوجود سندھ کے عوام کی حالت زار اور محرومیوں کا شکار کیوں ہیں؟ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قبا آڈیٹوریم کراچی میں منعقدہ برادر تنظیموں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکریٹری محمد یوسف، ڈپٹی جنرل سیکریٹری نواب مجاہد بلوچ، مولانا آفتاب ملک، سہیل احمد شارق سمیت وکلاء، مزدوروں، علمائے کرام اور طلبہ تنظیموں کے صوبائی عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اجتماع عام کی تیاریوں اور عوام کی شرکت کے حوالے سے منصوبہ بندی کی گئی۔
کاشف سعید شیخ نے کہا کہ اس جدید دور میں بھی سندھ کے عوام پینے کے صاف پانی، سڑکوں، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے خطرناک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا دارالحکومت کراچی بھی موئن جو دڑو بنا ہوا ہے، شہر کا انفرااسٹکچر اور سڑکیں تباہ ہیں، ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام نہیں، مگر شہریوں کا چالان بھی ہوگا اور بھاری جرمانے بھی یہ سراسر ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع گھوٹکی صنعتی زون ہونے کے باوجود مقامی لوگوں کو نظر انداز کرنا سندھ کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی اور حکومتی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ صوبائی امیر نے کہا کہ نومبر میں مینار پاکستان لاہور پر ہونے والا جماعت اسلامی کا اجتماع عام تاریخی ثابت ہوگا، برادر تنظیموں کے قائدین اجتماع کی کامیابی کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی سندھ کے عوام نے کہا کہ عوام کی
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔