Express News:
2026-06-02@23:47:20 GMT

ایم آر ڈی موومنٹ 1983ء کی تحریک

اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT

چار دہائیاں قبل ملک میں جنرل ضیاء الحق کی آمریت اور مارشل لاء کے خاتمے کے لیے ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے موومنٹ فار دی ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی (ایم آر ڈی) تشکیل دیا تھا۔ یہ جدید پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے سب سے بڑا مشترکہ اتحاد تھا۔

تحریک کا باضابطہ آغاز 14 اگست 1983 کو ملک بھر میں ہوا۔ پہلے مرحلے میں سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں اورکارکنوں نے بڑے شہروں بشمول کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاورکے علاوہ دیگر شہروں میں کیا ۔

سندھ میں تحریک کا آغاز بڑی تیزی سے ہوا جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سندھ میں رہنماؤں کی گرفتاریوں کے دوران ہزاروں افراد جمع ہوجاتے تھے۔

جب کارکن گرفتاریاں دینے کے لیے نمودار ہوتے تو لوگوں کا ہجوم ان پر ہار ڈالتا، نعرے لگاتا اور تھانوں کی طرف مارچ کرتا تھا۔ انھیں پولیس اہلکار راستے میں گرفتار کر کے لے جاتے تھے۔

گرفتار ہونے والوں میں اکثریت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اورکارکنوں کی تھی، جب کہ سندھ میں بائیں بازو کی جماعتیں، سندھی عوامی تحریک (رسول بخش پلیجو)، اور جمعیت علمائے اسلام بھی شامل تھیں۔

تحریک کے چند دنوں میں سندھ سے ہزاروں کارکنوں کوگرفتارکر لیا گیا۔ سندھ کی جیلیں اور تھانے بھرگئے۔ پولیس اور انتظامیہ کو رات کے وقت جیلوں میں رکھنا مشکل ہوگیا۔

تھانوں میں گرفتار ہونے والوں کو رات کو گھر بھیج دیا جاتا تھا، اور وہ صبح واپس تھانوں میں آجاتے تھے۔ پولیس کے ساتھ جھڑپیں، روڈ بلاک، لاٹھی چارج، آنسوگیس اور توڑ پھوڑ روزکا معمول ہوتا تھا۔

تھانے کا عملہ بھی گرفتاریاں کرنے سے کتراتا تھا۔ تحریک کے دوران بہت سے پولیس کانسٹیبلوں نے اپنے فرائض انجام دینے سے انکارکردیا اور اپنی ٹوپی اور بیلٹ پھینکنا شروع کردیے جس سے بالخصوص سندھ میں سول نافرمانی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔

خبروں کا واحد ذریعہ اخبارات تھے، میڈیا پر سنسر شپ تھی۔ بی بی سی لندن کی خبریں سننے کے لیے لوگ روزانہ شہروں اور دیہاتوں میں جمع ہوتے تھے۔

کئی شہر روزانہ بند رہتے، جہاں کرفیو جیسی صورتحال تھی۔ اس تحریک میں سیاسی کارکنوں کے علاوہ صحافیوں، ادیبوں، شاعروں اور مذہبی اسکالرزکو بھی گرفتارکیا گیا۔ ان میں سے کئی کو غیر سول عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔ میرا صحافتی سفر بھی 1983 میں ایم آر ڈی تحریک کی رپورٹنگ سے شروع ہوا۔

ایسے میں اس وقت کے سندھ پیپلز پارٹی کے صدر غلام مصطفی جتوئی جو ایم آر ڈی تحریک کی قیادت کر رہے تھے، انھوں نے گھارو ریسٹ ہاؤس سے ایک خط لکھ کر پارٹی کارکنوں سے تحریک روکنے کا پیغام دیا، لیکن سندھ کے عوام نے ان کی کال کو مسترد کردیا اور سندھ میں کئی ماہ تک تحریک چلتی رہی۔

ابتدائی دنوں میں مورو اور خیرپور ناتھن شاہ کے قصبوں میں نصف درجن کارکنوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ دادو میں روزانہ ہونے والے جلوسوں اور خصوصاً خواتین کے احتجاج نے بھی اس تحریک کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی بخشی۔

ایم آر ڈی تحریک کا سب سے بڑا واقعہ 42 سال قبل 29 ستمبر 1983 کو سکرنڈ شہر کے قریب قومی شاہراہ پر پیش آیا۔ جہاں پارٹی کارکنان اور سیکڑوں دیہاتی احتجاج کر رہے تھے، ان پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں 16 افراد شہید اور 51 زخمی اورگرفتارکر لیے گئے۔

جلوس کی قیادت کرنے والے 70 سالہ پنہل خان چانڈیو اور ان کے بیٹے غلام عباس چانڈیو کو گرفتارکر لیا گیا۔

ان پر خیرپور میں مقدمہ چلایا گیا اور انھیں سخت سزائیں دی گئیں۔ شدید زخمی کارکنوں کو کئی مہینوں تک نواب شاہ کے سول اسپتال میں رکھا گیا اور بعد میں لے جا کر قید کر دیا گیا۔

شہداء میں سے 9 کسان، دو سکرنڈ ہائی اسکول کے طالب علم اور ایک ڈھول بجانے والا منگنھار تھا جو گلیوں میں ڈھول بجا کر خوشیاں پھیلاتا تھا۔ ایک سکرنڈ شہر میں مزدوری کرتا تھا، ایک دکان چلاتا تھا، ایک دودھ والا تھا اور ایک بکریاں چرانے والا تھا۔

ان سب کا تعلق نچلے طبقے سے تھا۔ شہید ہونے والوں میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی، جو لوگ اس دن زخمی بھی ہوئے تھے، انھیں دوسرے زخمیوں اور لاشوں کے ساتھ نواب شاہ کے سول اسپتال لے جایا گیا۔

میں اور سکرنڈ سٹی سے میرے کچھ صحافی دوست جائے وقوعہ پر پہنچے تو قومی شاہراہ پر شہداء اور زخمیوں کا خون ابھی تک خشک نہیں ہوا تھا۔ ان کے جوتے، چپل اور دیگر سامان بکھرا ھوا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مظاہرین خالی ہاتھ تھے۔ بی بی سی نے اس واقعے کی خبر 29 ستمبر 1983 کو اپنی پہلی خبر کے طور پر نشر کی اور ریڈیو پاکستان نے بھی یہی خبر نشر کی، جس میں کہا گیا کہ آج سکرنڈ کے قریب 16 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے۔

اگلی صبح سکرنڈ شہر سے سیکڑوں لوگ گاؤں پنہل خان چانڈی پہنچے جہاں شہداء کے ورثاء اپنے پیاروں کو سپرد خاک کر رہے تھے۔ ورثاء کے علاوہ ایم پی اے غلام قادر چانڈیو بھی موجود تھے جو لوگوں سے تعزیت کر رہے تھے۔

ان کے والد پنہل خان چانڈیو اور بھائی غلام عباس چانڈیو سمیت ان کے خاندان کے افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ غلام قادر چانڈیو محنت کش طبقے کے نمایندے ہیں جو مسلسل 30 سال سے منتخب ہوتے رہے ہیں۔

1995 میں بے نظیر بھٹو نے انھیں چھ سال کی مدت کے لیے سینیٹ آف پاکستان کا رکن منتخب کیا۔ اس کے بعد وہ پانچویں مرتبہ رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے۔ غلام قادر چانڈیو 2002 کے الیکشن سے لے کر اب تک ہر الیکشن میں زیادہ ووٹ لے کر جیتے ہیں۔

آج اس تحریک کو 42 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ تحریک ملک کے باقی حصوں کی نسبت سندھ میں زیادہ فعال تھی، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور بائیں بازوکی جماعتوں کی شرکت نمایاں رہی۔ واضح رہے کہ سندھ کے قوم پرستوں نے اس تحریک کی مخالفت کی تھی۔ قوم پرست رہنما جی ایم سید نے اس تحریک کو کفن چوروں کی تحریک قرار دیا۔

سندھ کے عوام کی اس تاریخی جدوجہد نے سندھی عوام کو پوری دنیا میں جمہوریت کے حامی اور آمریت مخالف کے طور پر پہچان دی۔ ایم آر ڈی کی تحریک آج بھی خطے میں جمہوریت پسندوں کے لیے جوش و خروش کی ایک مثال بنی ہوئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کر رہے تھے ایم ا ر ڈی اس تحریک کے لیے

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری

گلگت:

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔

گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود