Express News:
2026-07-24@01:55:19 GMT

ایم آر ڈی موومنٹ 1983ء کی تحریک

اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT

چار دہائیاں قبل ملک میں جنرل ضیاء الحق کی آمریت اور مارشل لاء کے خاتمے کے لیے ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے موومنٹ فار دی ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی (ایم آر ڈی) تشکیل دیا تھا۔ یہ جدید پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے سب سے بڑا مشترکہ اتحاد تھا۔

تحریک کا باضابطہ آغاز 14 اگست 1983 کو ملک بھر میں ہوا۔ پہلے مرحلے میں سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں اورکارکنوں نے بڑے شہروں بشمول کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاورکے علاوہ دیگر شہروں میں کیا ۔

سندھ میں تحریک کا آغاز بڑی تیزی سے ہوا جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سندھ میں رہنماؤں کی گرفتاریوں کے دوران ہزاروں افراد جمع ہوجاتے تھے۔

جب کارکن گرفتاریاں دینے کے لیے نمودار ہوتے تو لوگوں کا ہجوم ان پر ہار ڈالتا، نعرے لگاتا اور تھانوں کی طرف مارچ کرتا تھا۔ انھیں پولیس اہلکار راستے میں گرفتار کر کے لے جاتے تھے۔

گرفتار ہونے والوں میں اکثریت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اورکارکنوں کی تھی، جب کہ سندھ میں بائیں بازو کی جماعتیں، سندھی عوامی تحریک (رسول بخش پلیجو)، اور جمعیت علمائے اسلام بھی شامل تھیں۔

تحریک کے چند دنوں میں سندھ سے ہزاروں کارکنوں کوگرفتارکر لیا گیا۔ سندھ کی جیلیں اور تھانے بھرگئے۔ پولیس اور انتظامیہ کو رات کے وقت جیلوں میں رکھنا مشکل ہوگیا۔

تھانوں میں گرفتار ہونے والوں کو رات کو گھر بھیج دیا جاتا تھا، اور وہ صبح واپس تھانوں میں آجاتے تھے۔ پولیس کے ساتھ جھڑپیں، روڈ بلاک، لاٹھی چارج، آنسوگیس اور توڑ پھوڑ روزکا معمول ہوتا تھا۔

تھانے کا عملہ بھی گرفتاریاں کرنے سے کتراتا تھا۔ تحریک کے دوران بہت سے پولیس کانسٹیبلوں نے اپنے فرائض انجام دینے سے انکارکردیا اور اپنی ٹوپی اور بیلٹ پھینکنا شروع کردیے جس سے بالخصوص سندھ میں سول نافرمانی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔

خبروں کا واحد ذریعہ اخبارات تھے، میڈیا پر سنسر شپ تھی۔ بی بی سی لندن کی خبریں سننے کے لیے لوگ روزانہ شہروں اور دیہاتوں میں جمع ہوتے تھے۔

کئی شہر روزانہ بند رہتے، جہاں کرفیو جیسی صورتحال تھی۔ اس تحریک میں سیاسی کارکنوں کے علاوہ صحافیوں، ادیبوں، شاعروں اور مذہبی اسکالرزکو بھی گرفتارکیا گیا۔ ان میں سے کئی کو غیر سول عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔ میرا صحافتی سفر بھی 1983 میں ایم آر ڈی تحریک کی رپورٹنگ سے شروع ہوا۔

ایسے میں اس وقت کے سندھ پیپلز پارٹی کے صدر غلام مصطفی جتوئی جو ایم آر ڈی تحریک کی قیادت کر رہے تھے، انھوں نے گھارو ریسٹ ہاؤس سے ایک خط لکھ کر پارٹی کارکنوں سے تحریک روکنے کا پیغام دیا، لیکن سندھ کے عوام نے ان کی کال کو مسترد کردیا اور سندھ میں کئی ماہ تک تحریک چلتی رہی۔

ابتدائی دنوں میں مورو اور خیرپور ناتھن شاہ کے قصبوں میں نصف درجن کارکنوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ دادو میں روزانہ ہونے والے جلوسوں اور خصوصاً خواتین کے احتجاج نے بھی اس تحریک کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی بخشی۔

ایم آر ڈی تحریک کا سب سے بڑا واقعہ 42 سال قبل 29 ستمبر 1983 کو سکرنڈ شہر کے قریب قومی شاہراہ پر پیش آیا۔ جہاں پارٹی کارکنان اور سیکڑوں دیہاتی احتجاج کر رہے تھے، ان پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں 16 افراد شہید اور 51 زخمی اورگرفتارکر لیے گئے۔

جلوس کی قیادت کرنے والے 70 سالہ پنہل خان چانڈیو اور ان کے بیٹے غلام عباس چانڈیو کو گرفتارکر لیا گیا۔

ان پر خیرپور میں مقدمہ چلایا گیا اور انھیں سخت سزائیں دی گئیں۔ شدید زخمی کارکنوں کو کئی مہینوں تک نواب شاہ کے سول اسپتال میں رکھا گیا اور بعد میں لے جا کر قید کر دیا گیا۔

شہداء میں سے 9 کسان، دو سکرنڈ ہائی اسکول کے طالب علم اور ایک ڈھول بجانے والا منگنھار تھا جو گلیوں میں ڈھول بجا کر خوشیاں پھیلاتا تھا۔ ایک سکرنڈ شہر میں مزدوری کرتا تھا، ایک دکان چلاتا تھا، ایک دودھ والا تھا اور ایک بکریاں چرانے والا تھا۔

ان سب کا تعلق نچلے طبقے سے تھا۔ شہید ہونے والوں میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی، جو لوگ اس دن زخمی بھی ہوئے تھے، انھیں دوسرے زخمیوں اور لاشوں کے ساتھ نواب شاہ کے سول اسپتال لے جایا گیا۔

میں اور سکرنڈ سٹی سے میرے کچھ صحافی دوست جائے وقوعہ پر پہنچے تو قومی شاہراہ پر شہداء اور زخمیوں کا خون ابھی تک خشک نہیں ہوا تھا۔ ان کے جوتے، چپل اور دیگر سامان بکھرا ھوا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مظاہرین خالی ہاتھ تھے۔ بی بی سی نے اس واقعے کی خبر 29 ستمبر 1983 کو اپنی پہلی خبر کے طور پر نشر کی اور ریڈیو پاکستان نے بھی یہی خبر نشر کی، جس میں کہا گیا کہ آج سکرنڈ کے قریب 16 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے۔

اگلی صبح سکرنڈ شہر سے سیکڑوں لوگ گاؤں پنہل خان چانڈی پہنچے جہاں شہداء کے ورثاء اپنے پیاروں کو سپرد خاک کر رہے تھے۔ ورثاء کے علاوہ ایم پی اے غلام قادر چانڈیو بھی موجود تھے جو لوگوں سے تعزیت کر رہے تھے۔

ان کے والد پنہل خان چانڈیو اور بھائی غلام عباس چانڈیو سمیت ان کے خاندان کے افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ غلام قادر چانڈیو محنت کش طبقے کے نمایندے ہیں جو مسلسل 30 سال سے منتخب ہوتے رہے ہیں۔

1995 میں بے نظیر بھٹو نے انھیں چھ سال کی مدت کے لیے سینیٹ آف پاکستان کا رکن منتخب کیا۔ اس کے بعد وہ پانچویں مرتبہ رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے۔ غلام قادر چانڈیو 2002 کے الیکشن سے لے کر اب تک ہر الیکشن میں زیادہ ووٹ لے کر جیتے ہیں۔

آج اس تحریک کو 42 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ تحریک ملک کے باقی حصوں کی نسبت سندھ میں زیادہ فعال تھی، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور بائیں بازوکی جماعتوں کی شرکت نمایاں رہی۔ واضح رہے کہ سندھ کے قوم پرستوں نے اس تحریک کی مخالفت کی تھی۔ قوم پرست رہنما جی ایم سید نے اس تحریک کو کفن چوروں کی تحریک قرار دیا۔

سندھ کے عوام کی اس تاریخی جدوجہد نے سندھی عوام کو پوری دنیا میں جمہوریت کے حامی اور آمریت مخالف کے طور پر پہچان دی۔ ایم آر ڈی کی تحریک آج بھی خطے میں جمہوریت پسندوں کے لیے جوش و خروش کی ایک مثال بنی ہوئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کر رہے تھے ایم ا ر ڈی اس تحریک کے لیے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن