Juraat:
2026-06-03@05:13:36 GMT

 ٹرمپ منصوبے کی تعریف کے بعد دوری!

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

 ٹرمپ منصوبے کی تعریف کے بعد دوری!

وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جن 20 نکات کا اعلان کیا ہے وہ ہمارے نہیں ہیں اس ڈرافٹ میں تبدیلی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ ڈرافٹ نہیں جو مسلم ممالک نے تیار کیا تھا، بلکہ اس میں غیر منظوری شدہ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اور 20 نکاتی ڈرافٹ میں تبدیلیاں ہمیں قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہمیں 20 نکاتی ایجنڈا دیا گیا تو اسلامی ممالک کی طرف سے ہم نے ترمیم شدہ 20 نکاتی پلان دیا لیکن جو 20 نکاتی ڈرافٹ فائنل ہوا اس میں تبدیلیاں کی گئیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیر اعظم نے ٹرمپ کے پہلے ٹویٹ کی جواب میں ٹویٹ کیا اور اس وقت تک ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ڈرافٹ میں تبدیلیاں کی گئیں، فلسطین کے معاملے پر ہمارا وہی موقف ہے جو قائد اعظم کا تھا،انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عرب ممالک غزہ میں خون بندی بند کروانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کا مقصد غزہ میں جنگ بندی تھا۔

اگرچہ کئی مسلم حکومتوں نے، بشمول ہماری اپنی حکومت نے، ابتدائی طور پر 20 نکاتی غزہ ”امن” منصوبے کا خیرمقدم کیا تھا، لیکن اب اسحاق ڈار کے بیان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو نے مسلم دنیا کے رہنماؤں کودھوکہ دیا ہے اور جب حقیقت ان پر آشکار ہوئی یعنی فلسطینیوں کی سرنڈر، اسرائیلیوں کی بے گناہی (استثنا)، اور غزہ پر نوآبادیاتی کنٹرول تو وضاحتیں آنا شروع ہوگئیں تو ان کو اس سے دوری اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس منصوبے میں تبدیلیاں کیں جو اصل خاکے میں شامل نہیں تھیں، جس پر امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں کئی مسلم ریاستوں کے رہنماؤں سے بات چیت کی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ابتدا میں اس سمجھوتے پر بڑی خوشی کا اظہار کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق قطریوں نے امریکہ سے کہا تھا کہ منصوبے کے اعلان کو مؤخر کیا جائے، لیکن واشنگٹن نے اس درخواست کو واضح طور پر رد کردیا۔اگراسحاق ڈار کے بیان کے مطابق یہ درست ہے کہ اس منصوبے میں اسرائیل کی مداخلت سے ترامیم کی گئی ہیں اور تو مسلم دنیا کو اس حوالے سے اپنے آپ سے کچھ اہم سوالات کرنے ہوں گے۔اول تو یہ کہ اسرائیل کس طرح ایک ایسے معاہدے میں تبدیلیاں کرنے کے قابل ہوا جس پر کئی مسلم ریاستیں پہلے ہی متفق ہو چکی تھیں، اور امریکہ نے ایسا کیوں ہونے دیا؟ دوم، یہ منصوبہ فلسطینیوں کی رائے کے بغیر کیسے حتمی شکل اختیار کر گیا اور پاکستان اور دیگر ممالک نے جو فلسطینیوں کے حقوق کے علمبردار ہیں اور فلسطینی ہی وہ فریق ہیں جو اسرائیلی ظلم و تشدد سے سب سے زیادہ متاثر ہیں؟ اس منصوبے کا باریک بینی سے جائزہ لیاجائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ معاہدہ دراصل حماس کو بے اثر کرتا ہے اور فلسطینی اتھارٹی کو اس کی جگہ پر رکھتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسرائیل سے معافی مانگے اور اپنے ”گناہوں” کا کفارہ ادا کرے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر دونوں بڑی فلسطینی جماعتیں اس ڈیل سے باہر رکھی جاتی ہیں، تو پھر غزہ کون چلائے گا؟ کیا وہ فلسطینی ”ٹیکنوکریٹس”، جنہیں مقبوضہ علاقے کا انتظام چلانا ہے، اسرائیل کے سامنے وفاداری کا حلف اٹھائیں گے اور ہمیشہ کے لیے ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے خواب سے دستبردار ہوجائیں گے؟ یہ وہ تاثر ہے جو اس شرمناک دستاویز کو پڑھ کر ملتا ہے۔مزید یہ کہ اس منصوبے میں دو ریاستی حل اور یروشلم کو فلسطینی دارالحکومت بنانے کا کوئی واضح نقشہ موجود نہیں، اس کاصرف ایک مبہم سا ذکر ہے کہ ایک قابلِ یقین راستہ نکالا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ اس منصوبے میں کوئی ساکھ نہیں، اور اس کے کامیاب ہونے کے امکانات تقریباً صفر ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی کھلی دھمکیوں کے باوجود حماس کی جانب سے اس کو قبول کئے جانے کا امکان نہیں ، یہی وجہ ہے کہ فتح کے اندر سے بھی بے چینی کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر حماس نے اس منصوبے کو مسترد کیا تو اس کا ”انتہائی افسوسناک انجام” ہوگا۔ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ کے نہتے شہریوں پر بمباری جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ حماس کے جواب کا انتظار ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ تل ابیب امن کے لیے کتنا پابند عہد ہے۔ اس صورت حال میں اب مسلم رہنماؤں کو اپنے آپ سے یہ پوچھنا ہوگا کہ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر اندھا اعتماد کرکے بدلے میں آخر حاصل کیا کیا؟

جہاں تک اس منصوبے سے پاکستان کی وابستگی کا تعلق ہے تو صدر ٹرمپ کی جانب سے اس منصوبے کا اعلان کئے جانے کے فوری بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اسے فلسطین میں قیام امن کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیتے ہوئے اس پرٹرمپ کو مبارکباد دیتے ہوئے انھیں امن کا داعی تک قرار دے دیاتھا جبکہ صدر ٹرمپ نے اپنی آخری کانفرنس میں انکشاف کیا تھاکہ پاکستان کس قدر گہرائی سے اس منصوبے کی تیاری کی کوشش میں شامل رہا ہے۔ٹرمپ نے کہاتھاکہپاکستان کے وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل ابتدا ہی سے ہمارے ساتھ تھے اور انہوں نے ایک بیان بھی جاری کیا ہے کہ وہ اس معاہدے پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔یہ بیان اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان نے اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ منصوبے کی تشکیل میں پاکستان اکیلا نہیں تھا۔ اس 20 نکاتی امن منصوبے کی توثیق دراصل پوری مسلم دنیا کی ایک مشترکہ کاوش تھی یہ ایک نایاب لمحہ تھا جب بکھری ہوئی سیاسی قیادت ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوئی تھی اور پاکستان ہی نہیں تمام اہم علاقائی طاقتوں ، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، ترکی، ملائیشیا اور دیگر نے مربوط انداز میں ایک ہی فریم ورک کی حمایت کی۔ یہ ایک غیر معمولی سفارتی ہم آہنگی تھی، جو اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اس کوشش کی سنجیدگی کس قدر زیادہ ہے اور سب کا مشترکہ مقصد انسانی المیے کو روکنا ہے۔یہ صرف پاکستان کی یکطرفہ کوشش نہیں ہے، بلکہ یہ پورے خطے کی اجتماعی پیش رفت ہے۔ ماضی میں اس طرح کی یکجہتی ناپید رہی ہے، مگر اس مرتبہ ایک ایسا بریک تھرو سامنے آیا تھا جسے بڑے سے بڑا شکی مزاج ناقد بھی نظرانداز نہیں کرسکا۔ااس منصوبے کی صورت میں برسوں بعد پہلی بار ایک واضح روڈ میپ سامنے آیا تھا ایک آزاد فلسطینی ریاست کی جانب راستہ، جس کی پشت پر بین الاقوامی نگرانی، مسلم یکجہتی اور دباؤ کے تحت اسرائیلی قبولیت بھی شامل ہے۔
اب اسحاق ڈار کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتاہے کہ پاکستان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ مجوزہ غزہ امن منصوبے سے دوری اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ یہ منصوبہ اُن نکات سے مختلف ہے جو8 مسلم ممالک نے تجویز کیے تھے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ ہماری دستاویز نہیں ہے۔جبکہ وائٹ ہاؤس پر امن منصوبے کے نکات شیئر کرنے اور اس سے قبل اسرائیلی  وزیراعظم نتن یاہو اور صدر ٹرمپ کی ملاقات سے گھنٹوں پہلے ہی پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس امن منصوبے کا خیر مقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ ‘میں صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہوں، جس کا مقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔امن منصوبے کے اعلان کے موقع پر صدر ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اُن کے غزہ منصوبے کے ‘100 فیصد’ حامی ہیں۔مگر جیسے ہی اس منصوبے کی تفصیلات وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر شائع کی گئیں تو بظاہر پاکستانی کی پریشانی میں اضافہ ہوا۔اور پھر اگلے ہی روز وزیر خارجہ اسحاق ڈار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے سے کچھ فاصلہ اختیار کرتے دکھائی دیے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں وہ اہم نکات شامل نہیں جو پاکستان نے7 دیگر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر تجویز کیے تھے۔انھوں نے کہا کہ ‘یہ اہداف ہم نے ٹرمپ کو بتائے تھے اور ان سے کہا تھا کہ وہ ان کے حصول میں ہمارے ساتھ کام کریں۔’ ڈارکا کہنا ہیکہ امریکی صدر نے آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ سے ایک ‘قابلِ عمل حل’ دینے کا وعدہ کیا تھا۔اسحاق ڈار کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو کی مداخلت کے بعد امریکی منصوبے میں تبدیلی کی گئی اور اس میں ایسی شرائط شامل کر دی گئیں جن کے تحت اسرائیل کا انخلا حماس کے ہتھیار ڈالنے سے مشروط کردیاگیاہے۔ان کا کہناہے کہ ہم نے صدر ٹرمپ کے الگ نقطہ نظر کو تسلیم کیا اور سراہا تھا، اور اس کے بعد ہم نے اپنا ایجنڈا بھی دوبارہ دہرایا تھا کہ ہم کن اہداف کے لیے پرعزم ہیں اور ہم مل کر صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے ساتھ یہ حاصل کریں گے۔ اور آٹھ ممالک اس پر پرعزم ہیں۔ جہاں تک ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا تعلق ہے تو یہ مجوزہ منصوبہ کافی حد تک ویسا ہی جس کا اعلان جو بائیڈن نے تقریباً ایک سال پہلے کیا تھا۔سابق امریکی صدر بائیڈن کا معاہدہ اس لیے آگے نہیں بڑھ سکا تھا کیونکہ نتن یاہو نے اپنی کابینہ میں موجود افراد کے دباؤ میں آ کر اپنے مطالبات مزید بڑھا دیے تھے۔ نتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے انگریزی میں کہا تھا کہ ‘میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے آپ کے منصوبے کی حمایت کرتا ہوں ، جب انُ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ فلسطینی ریاست کے لیے راضی ہیں تو انھوں نے اسی وقت بلاتوقف کہا تھاکہ ‘نہیں، بالکل نہیں یہ تو معاہدے میں بھی نہیں لکھا ہے۔ لیکن ہم نے ایک بات کہی ہے۔ کہ ہم فلسطینی ریاست کے قیام پر بھرپور مزاحمت کریں گے۔’ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ نے بھی اس پر اتفاق کیا ہے۔جس سے ہم ہمارے جنگی مقاصد پورے ہو رہے ہیں نتن یاہو کے اس بیان سے ظاہرہوتاہے کہ امن معاہدے کو اس وقت تبدیل کیا جاچکاتھا ،اور پاکستان اس سے بے خبر تھا ،اس منصوبے کے حوالے سے پاکستانی حکومت کے اِس بدلتے موقف کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ اچانک تبدیلی کیوں رونما ہوئی؟ ظاہر ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس کی بھرپور مخالفت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار اپنے موقف پر قائم نہیں رہ سکے۔اس منصوبے کے اعلان کے فوری بعد جس میں اسحاق ڈار کے مطابق نتن یاہو کے کہنے پر تبدیلی کی گئی پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور تجزیہ کاروں کو اس میں موجود خامیوں کا علم ہوچکا تھا لیکن لاعمل تھے تو وہ ہمارے وزیراعظم اور وزیر خارجہ ہی تھے کیونکہ منصوبے کے اعلان کے فوری بعد پاکستان میں سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی جماعتوں تک سبھی ٹرمپ کے منصوبے پر تنقید کرتے نظر آئیکہا جا رہا ہے کہ اس مجوزہ معاہدے میں دو ریاستی حل کا واضح ذکر نہیں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے اس منصوبے کو ‘اقوام متحدہ کے قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور گولان پہاڑیوں پر قبضے کو جائز قرار دینا علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔جماعت اسلامی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کی غزہ کے حوالے سے پالیسی اور ٹرمپ کے منصوبے کی حمایت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے ‘امن منصوبے کی تعریف جو 66 ہزار فلسطینیوں کی لاشوں پر مبنی ہے’ ظالموں کے ساتھ کھڑا ہونے کے مترادف ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے اس معاہدے سے حکومت کی یہ دوری کب تک قائم رہتی ہے اور اس کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف اسحاق ڈار نے کہا منصوبے کے اعلان فلسطینی ریاست میں تبدیلیاں اسحاق ڈار کے تبدیلیاں کی میں تبدیلی پاکستان کی ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر کہا تھا کہ کی جانب سے منصوبے کا تبدیلی کی منصوبے کی اختیار کر نے کہا کہ انھوں نے نتن یاہو کے مطابق ہے کہ اس کے ساتھ کیا تھا ٹرمپ کی یاہو نے ٹرمپ کے کی گئی ہے اور کے لیے اور اس کے بعد کیا ہے

پڑھیں:

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟

اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامی

امریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا

غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔

اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔

اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔

اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟

یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔

کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟

راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔

ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار

ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔

کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟

شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔

متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔

جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔

اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔

امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔

اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار