پاک فوج کے زیر اہتمام بنوں اسپورٹس کمپلیکس میں پینٹنگ اور آرٹس ایونٹ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
پاک فوج کے زیر اہتمام بنوں اسپورٹس کمپلیکس میں پینٹنگ اور آرٹس ایونٹ کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں مختلف اسکولز اور کالجز کے 150 سے زائد طلبہ و طالبات نے شرکت کی اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔ رنگا رنگ تقریب میں پاک فوج کے مقامی افسران، ضلعی انتظامیہ کے نمائندوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ طلبہ نے اپنی خوبصورت پینٹنگز، دلکش فن پاروں اور تخلیقی آئیڈیاز کے ذریعے حاضرین کے دل جیت لیے۔ مہمانِ خصوصی نے ایونٹ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں انعامات تقسیم کیے اور ان کی صلاحیتوں کو سراہا۔ اس موقع پر کہا گیا کہ بنوں کے باصلاحیت نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، ان کے فن پارے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ قابلیت میں کسی سے کم نہیں۔ ایونٹ کے اختتام پر بنوں کے عوام نے تقریب کے کامیاب انعقاد پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے پروگرام نہ صرف نوجوانوں کے ٹیلنٹ کو اُجاگر کرتے ہیں بلکہ علاقے میں امن، ہم آہنگی اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔