Islam Times:
2026-07-24@04:35:48 GMT

موضوع: غزہ امن منصوبے کا مستقبل

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں تازہ ترین مسائل کے بارے میں نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کی جاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںہفتہ وار تجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع:   غزہ امن منصوبے کا مستقبل
تجزیہ نگار:علامہ  ڈاکٹر سید میثم ہمدانی
میزبان: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو واہم نکات:
ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں دنیا بھر میں جنگوں کے خاتمہ کی بات کی تھی
اس لئے اس وقت ٹرمپ انتظامیہ کے لئے  بہت اہم ہے کہ امن معاہدہ کروایا جائے
لیکن سوائے پاک بھارت جنگ کو رکوانے کے لئے کچھ بھی نہ کرسکا
ٹرمپ نوبل پرائز کے حصول کے لئے بھی بہت بے چین ہے
جب کہ عالمی رائے عامہ اس وقت اسرائیل کی غزہ میں جارحیت کے بہت خلاف ہوچکی ہے
پوری دٗنیا میں امریکہ و اسرائیل کے لئے نفرت  بڑھتی جارہی ہے
چند مسلمان حکمران بھی فیس سیونگ کے لئے جنگ بندی کی بات کررہے ہیں
ٹرمپ اور صیہونی حکومت کو کس نے حق دیا ہے کہ اپنی تجاویز معاہدہ کے نام پہ غزہ پہ مسلط کردیں
یہ نام نہاد امن معاہدہ  انتہائی یکطرفہ جارحانہ تجاویز پہ مشتمل ہے
نام نہاد امن معاہدہ   ابہامات پہ مشتمل  دستاویز ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ صیہونی حکومت اور فلسطینی بھی اس معاہدہ کو نہیں مان سکتے ۔
حقیقت تو یہ ہے کہ یہ 20 نکاتی ایجنڈا کئی ممالک کے نزدیک قابل قبول تو ہو سکتا ہے مگر قابل عمل نہیں۔
سچ بات تو یہ ہے کہ یہ علاقہ دنیا کا دل ہے، جس کایہاں پہ تسلط وہ دنیا پہ حکم چلاسکتا ہے
عالمی ضرورت کی توانائی  اور انرجی کے بہترین ذخائر اس خطہ زمین میں موجود ہیں
تیل اور گیس کے بہترین  ذخائر   اسی علاقے میں پائے جاتے ہیں
سرمایہ دار ممالک اور ان کے حکمرانوں کی ہمدردی غزہ کے عام سے نہیں ہے
استعماری حکمران فقط اس علاقے کے قدرتی وسائل پی اپنی حریص نگاہیں جمائے ہوئے ہیں
پوری دینا کے استعماری پٹھو حکمران شرف ٹرمپ کی خوشنودی کے  لئے بے چین رہتے ہیں
آذربائیجان کا  ٹرانسپورٹ راستے کانام  ٹرمپ کوریڈور  رکھ دینا خوشامدی پن کی انتہا ہے
نے ت ن  ی ا  ہ و کا ٹرمپ کو سمندر میں پارک بنانے کے منضوبے کی دعوت دینا بھی ایسی ہی کاروباری خوشامدہے
آنے والے وقت میں یہ نام نہاد امن معاہدہ   ردی کی ٹوکری کا حصہ بنے گا
تجربہ تو یہ ہے گزشتہ ستر برس میں بھی استعمار اپنی سوچ اس علاقے پہ مسلط نہیں کرسکا
تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ فلسطینیوں غلیلوں اور پتھروں سے لڑائی لڑ کر بھی قبضہ  قبول نہیں کیا
پاکستان کا موقف بانی پاکستان کے بتائے ہوئے راستے فلسطینی عوام کی حمایت ہے
پاکستانی میں چند مٹھی بھر بے حمیت لوگ  اسرائیل کے نرم گوشہ رکھتے ہیں
پاکستان میں اس وقت دینی سیاست   کی جماعتیں تو فلسطین کی حمایت کھل کر کرتی ہیں
پاکستان میں لبرل جماعتوں کو عالمی سطح پہ لبرل حلقوں کے اسرائیل مخالف تحریک کو  اپنے لئے رہنما بنا نا چاہیئے
پاکستان کی پارلیمنٹ کو بانی پاکستانی کے موقف کی روشنی میں اسرائیل کے حوالے    قرادار منظور کرنا چاہیئے
صمود فلوٹیلا  پہ سوار انسانی حقوق کے نمائندگان پہ اسرائیلی  حملہ دہشت گردی ہے
صمود فلوٹیلا  پہ اسرائیلی حملہ نے ایک بار پھر صیہونی مکروہ چہرے کو بے نقاب کردیا ہے
 
 
 
 
 
 
 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امن معاہدہ کے لئے

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم