Islam Times:
2026-06-03@05:13:27 GMT

موضوع: غزہ امن منصوبے کا مستقبل

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں تازہ ترین مسائل کے بارے میں نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کی جاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںہفتہ وار تجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع:   غزہ امن منصوبے کا مستقبل
تجزیہ نگار:علامہ  ڈاکٹر سید میثم ہمدانی
میزبان: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو واہم نکات:
ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں دنیا بھر میں جنگوں کے خاتمہ کی بات کی تھی
اس لئے اس وقت ٹرمپ انتظامیہ کے لئے  بہت اہم ہے کہ امن معاہدہ کروایا جائے
لیکن سوائے پاک بھارت جنگ کو رکوانے کے لئے کچھ بھی نہ کرسکا
ٹرمپ نوبل پرائز کے حصول کے لئے بھی بہت بے چین ہے
جب کہ عالمی رائے عامہ اس وقت اسرائیل کی غزہ میں جارحیت کے بہت خلاف ہوچکی ہے
پوری دٗنیا میں امریکہ و اسرائیل کے لئے نفرت  بڑھتی جارہی ہے
چند مسلمان حکمران بھی فیس سیونگ کے لئے جنگ بندی کی بات کررہے ہیں
ٹرمپ اور صیہونی حکومت کو کس نے حق دیا ہے کہ اپنی تجاویز معاہدہ کے نام پہ غزہ پہ مسلط کردیں
یہ نام نہاد امن معاہدہ  انتہائی یکطرفہ جارحانہ تجاویز پہ مشتمل ہے
نام نہاد امن معاہدہ   ابہامات پہ مشتمل  دستاویز ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ صیہونی حکومت اور فلسطینی بھی اس معاہدہ کو نہیں مان سکتے ۔
حقیقت تو یہ ہے کہ یہ 20 نکاتی ایجنڈا کئی ممالک کے نزدیک قابل قبول تو ہو سکتا ہے مگر قابل عمل نہیں۔
سچ بات تو یہ ہے کہ یہ علاقہ دنیا کا دل ہے، جس کایہاں پہ تسلط وہ دنیا پہ حکم چلاسکتا ہے
عالمی ضرورت کی توانائی  اور انرجی کے بہترین ذخائر اس خطہ زمین میں موجود ہیں
تیل اور گیس کے بہترین  ذخائر   اسی علاقے میں پائے جاتے ہیں
سرمایہ دار ممالک اور ان کے حکمرانوں کی ہمدردی غزہ کے عام سے نہیں ہے
استعماری حکمران فقط اس علاقے کے قدرتی وسائل پی اپنی حریص نگاہیں جمائے ہوئے ہیں
پوری دینا کے استعماری پٹھو حکمران شرف ٹرمپ کی خوشنودی کے  لئے بے چین رہتے ہیں
آذربائیجان کا  ٹرانسپورٹ راستے کانام  ٹرمپ کوریڈور  رکھ دینا خوشامدی پن کی انتہا ہے
نے ت ن  ی ا  ہ و کا ٹرمپ کو سمندر میں پارک بنانے کے منضوبے کی دعوت دینا بھی ایسی ہی کاروباری خوشامدہے
آنے والے وقت میں یہ نام نہاد امن معاہدہ   ردی کی ٹوکری کا حصہ بنے گا
تجربہ تو یہ ہے گزشتہ ستر برس میں بھی استعمار اپنی سوچ اس علاقے پہ مسلط نہیں کرسکا
تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ فلسطینیوں غلیلوں اور پتھروں سے لڑائی لڑ کر بھی قبضہ  قبول نہیں کیا
پاکستان کا موقف بانی پاکستان کے بتائے ہوئے راستے فلسطینی عوام کی حمایت ہے
پاکستانی میں چند مٹھی بھر بے حمیت لوگ  اسرائیل کے نرم گوشہ رکھتے ہیں
پاکستان میں اس وقت دینی سیاست   کی جماعتیں تو فلسطین کی حمایت کھل کر کرتی ہیں
پاکستان میں لبرل جماعتوں کو عالمی سطح پہ لبرل حلقوں کے اسرائیل مخالف تحریک کو  اپنے لئے رہنما بنا نا چاہیئے
پاکستان کی پارلیمنٹ کو بانی پاکستانی کے موقف کی روشنی میں اسرائیل کے حوالے    قرادار منظور کرنا چاہیئے
صمود فلوٹیلا  پہ سوار انسانی حقوق کے نمائندگان پہ اسرائیلی  حملہ دہشت گردی ہے
صمود فلوٹیلا  پہ اسرائیلی حملہ نے ایک بار پھر صیہونی مکروہ چہرے کو بے نقاب کردیا ہے
 
 
 
 
 
 
 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امن معاہدہ کے لئے

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی