مظفر آباد(آئی این پی+نوائے وقت رپورٹ+ اپنے سٹاف رپورٹر سے )آزادکشمیر میں وفاقی وزر ا اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد25 نکاتی معاہدے پر دستخط ہوگئے ،جس کے بعد پانچ روز سے جاری احتجاج ختم ہوگیا۔  سڑکیں اور بازار کھل گئے اور مظاہرین گھروں کو لوٹ گئے۔ شہباز شریف کی ہدایت پر تشکیل دی گئی مذاکراتی کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان نے طویل مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں معاہدے کا اعلان کیا۔ رانا ثناء نے کہا کہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا گیا اور عوامی ایکشن کمیٹی کے جائز مطالبات منظور کر لئے۔ فریقین کے درمیان معاملات طے کرنے کیلئے لیگل ایکشن کمیٹی قائم کی گئی ہے، لیگل ایکشن کمیٹی ہر 15 دن بعد بیٹھے گی۔ تمام امور خوش اسلوبی سے طے پا گئے ہیں، دشمن کے عزائم ناکام ہوگئے ہیں اور کشمیری عوام کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ کچھ لوگ امید لگائے بیٹھے تھے کہ معاملے کو بگاڑا جائے لیکن ان کے تمام تر منصوبے ناکام ہوئے، کشمیر میں امن قائم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور اب کسی کو سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی مسئلہ یا شکایت ہو تو وہ کمیٹی کے سامنے پیش کریں۔ احسن اقبال نے بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے معاہدے کو پاکستان، آزاد کشمیر اور جمہوریت کی جیت قرار دیا۔ پریس کانفرنس سے قبل طارق فضل چودھری نے کہا کہ ہمارے مذاکراتی وفد نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ حتمی معاہدے پر دستخط کر دیئے۔وزرا نئے دونوں اطراف ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ طارق فضل چودھری نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں معاہدے کو امن کی فتح قرار دیا ہے، ساتھ ہی واضح کیاکہ مظاہرین اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں اور تمام سڑکیں بھی کھل گئی ہیں۔ احسن اقبال نے بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے معاہدے کو پاکستان، آزاد کشمیر اور جمہوریت کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتوں میں عوامی مسائل کے باعث ایک مشکل صورتِ حال پیدا ہوئی، مقامی اور قومی قیادت کی دانائی اور مکالمے کی روح نے اس بحران کو پر امن انداز میں حل کردیا۔ نہ تشدد کو ہوا ملی نہ تقسیم ہوئی بلکہ باہمی احترام کے ساتھ راستہ نکالا گیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے عوام کی آواز کو بلند کیا اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے ان آوازوں کو سنجیدگی سے سنا، جب حکومت عوام کی سنتی ہے، عوام تعمیری انداز میں بات کرتے ہیں توحل نکل آتا ہے۔ ہم نے تصادم کے بجائے مشاورت کو اور انا کے بجائے یکجہتی کو ترجیح دی۔ انشا اللہ ہم سب مل کر آزاد جموں کشمیر میں بہتر حکمرانی اور ترقی کے لئے ساتھ ساتھ کام کریں گے۔وفاقی وزرا اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان طے پانے و الا معاہدہ 12 بنیادی اور 13 اضافی نکات پر مشتمل ہے۔ ان اہم نکات کے مطابق پرتشدد واقعات پر مقدمات درج ہوں گے اور عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔جاں بحق افراد کے ورثا کو اہلکاروں کے برابر معاوضہ دیا جائے گا، زخمیوں کو 10 لاکھ روپے اور ورثا کو سرکاری نوکری فراہم کی جائے گی۔مظفرآباد اور پونچھ میں 2 نئے تعلیمی بورڈ قائم کئے جائیں گے اور تمام بورڈز کو وفاقی تعلیمی بورڈ اسلام آباد سے منسلک کیا جائے گا۔میرپور کے متاثرہ خاندانوں کو 30 دن میں زمین کا قبضہ دیا جائے گا۔لوکل گورنمنٹ ایکٹ 1990 ء میں 90 دن کے اندر ترامیم کی جائیں گی۔حکومت 15 دن میں ہیلتھ کارڈ کیلئے فنڈز جاری کرے گی۔بجلی کے نظام کی بہتری کیلئے 10 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔کابینہ کا حجم 20 وزرا اور مشیران تک محدود ہوگا اور سیکرٹریز کی تعداد بھی 20 سے زائد نہیں ہوگی۔2 اور 3 اکتوبر کو گرفتار مظاہرین کو رہا کیا جائے گا۔معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ایک اعلی سطحی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کی جائے گی۔اضافی نکات کے مطابق احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن کو ضم کرکے قوانین کو نیب ایکٹ سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔کہوری، کمسیرا اور چھپلانی نیلم روڈ پر سرنگوں کی فزیبلٹی تیار کی جائے گی۔مہاجرین ارکان اسمبلی کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، رپورٹ آنے تک مراعات اور فنڈز معطل رہیں گے۔بنجوسہ، مظفرآباد اور پلندری واقعات کی تحقیقات بھی عدالتی کمشن کے سپرد ہوں گی۔میرپور ایئرپورٹ کیلئے رواں مالی سال میں ٹائم فریم طے کیا جائے گا۔جائیداد کی منتقلی پر ٹیکس تین ماہ میں پنجاب و خیبرپی کے کے برابر کیا جائے گا۔2019 ء کے ہائی کورٹ فیصلے کے مطابق ہائیڈل منصوبوں پر عملدرآمد کیا جائے گا۔10 اضلاع میں واٹر سپلائی سکیم کی فزیبلٹی رواں سال مکمل ہوگی۔ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں آپریشن تھیٹر اور نرسریز قائم کی جائیں گی۔گلپور اور رحمان کوٹلی میں پل تعمیر کئے جائیں گے اور ایڈوانس ٹیکس میں کمی کی جائے گی۔تعلیمی اداروں میں اوپن میرٹ پالیسی پر عمل ہوگا۔ ڈڈیال کیلئے واٹر سپلائی سکیم اور ٹرانسمیشن لائن منظور کی گئی۔مہندر کالونی ڈڈیال کے مہاجرین کو ملکیتی حقوق دئیے جائیں گے اور ٹرانسپورٹ پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔وفاقی حکومت کے مذاکراتی وفد نے کشمیری عوام کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں جبکہ بھارت کی آزاد کشمیر میں خونریزی کی خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی۔احسن اقبال نے کہا پاکستان کے دشمن آزاد کشمیر میں بدامنی، فساد اور انتشار دیکھنا چاہتے تھے، ان کی سازش ناکام ہوئی اور ہم کامیابی سے ان مراحل سے سرخرو ہوکر نکلے، یہ عوام اور پاکستان کی جیت ہے۔ مذاکرات دونوں فریقین میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیے گئے۔ جو کامیاب ہوگئے اور یہاں امن بحال ہوگیا، جبکہ جن اقدامات پر اتفاق رائے ہوا، اس سے کشمیری عوام کا ترقیاتی ایجنڈے کو پورا کرنے میں ہمیں معاونت ملے گی جس میں حکومت بھی دلچسپی رکھتی ہے۔ میری ذاتی رائے ہے کہ آزاد کشمیر سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں بھی جو انتظامی ڈھانچے میں کمزوریاں ہیں، ہم انہیں نظرانداز نہیں کرسکتے جن سے عوامی شکایات جنم لیتی ہیں، ہمیں انہیں فوری طور پر دور کرنا چاہیے اور حکومتی ڈھانچے کو مؤثر ہونا چاہیے، اس کے لیے ہمیں گڈ گورننس کی اصلاحات کو ملک گیر سطح پر رائج کرنا چاہیے۔ عوام اب باشعور ہوچکے ہیں، میڈیا نے انہیں شعور دیا ہے اور ان کی توقعات بڑھ چکی ہیں، اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کے اپنے معاشی، اقتصادی مسائل ہیں جس کی وجہ سے ہم محدود وسائل کے اندر ان مشکلات کو حل کرنے کے لیے اپنی پوزیشن میں ہیں۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ آپ ان شکایات کو تشدد، افراتفری اور انتشار کے بجائے میز پر بیٹھ کر حل کرکے ثابت کرتے ہیں جب کہ وہاں کے عوام بھی مبارکباد مستحق ہیں۔ پاکستان کے دشمن جو مناظر دیکھنا چاہتے تھے اور وہاں پر بدامنی، فساد اور انتشار دیکھنا چاہتے تھے، ان کی سازش ناکام ہوئی اور ہم کامیابی سے ان مراحل سے سرخرو ہوکر نکلے ہیں۔ وفاقی حکومت نے جو وعدے کیے ہیں، ہم پورے خلوص سے ان پر عمل بھی کریں گے اور 15 روزہ جو میکنزم بنایا گیا ہے، مجھے یقین ہے اس کے بعد یہ شکایات دوبارہ جنم نہیں لیں گی۔ قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے بعد کشمیری عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا ہوگا کیوں کہ وہاں جو ٹینشن کا ماحول بنا تھا جس پر سب کو فکر تھی، احتجاج پرتشدد ہوگیا تھا جس میں قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ وفاقی حکومت کے بروقت اقدامات سے مذاکرات کامیاب ہوئے، کشمیری ہمارے بھائی ہیں ان کا مفاد عزیز ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، آزاد کشمیر کے عوامی مسائل حل کیے جائیں گے۔ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، تشدد شامل ہونے سے کوئی بھی تحریک منزل کھو دیتی ہے، جمہوریت میں عوامی دباؤ حکومتی سٹرکچر کو درست رکھنے میں اہم ہوتا ہے لیکن اس تشدد معاملات کو خراب کردیتا ہے اس سے کبھی اچھی چیزیں پیدا نہیں ہوتیں۔ امیر مقام نے کہا کہ بھارت کی کشمیر میں خونریزی کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی، آزاد کشمیر میں خوش اسلوبی سے معاملات طے پاگئے، آزاد کشمیر میں مذاکرات کی کامیابی پر شہبازشریف کے مشکور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام سے بہن اور بھائی کا رشتہ ہمیشہ قائم رہے گا، پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے آزاد جموں و کشمیر میں مذاکرتی عمل کی کامیابی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن کا قیام اور حالات کا معمول پر آ جانا خوش آئند ہے،حکومت اپنے کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے،افواہوں پر کان نہ دھریں ،ہم پہلے بھی کشمیری بہن بھائیوں کے حقوق کے محافظ تھے اور آئندہ بھی ان کے حقوق کا تحفظ کرتے رہیں گے۔ شہباز شریف نے مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی انفرادی اور اجتماعی کاوشوں کو سراہتے ہوئے بھرپور شاباش دی ۔ وزیر اعظم نے اسے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ امن کا قیام اور حالات کا معمول پر آ جانا خوش آئند ہے۔ سازشیں اور افواہیں آخر کار دم توڑ گئیں اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوئے مذاکرات کی کامیابی پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اراکین کا بھی شکریہ ادا کیا اور امن کے قیام پر مبارکباد دی کہ حکومت اپنے کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے،عوامی مفاد اور امن ہماری ترجیح ہے اور آزاد کشمیر کی خدمت کرتے رہیں گے۔ آزاد کشمیر کے مسائل پر ہمیشہ توجہ رہی ہے اور میری حکومت نے ہمیشہ ترجیحی بنیادوں پر ان مسائل کو حل کیا۔عوامی ایکشن کمیٹی نے منگل کو یوم تشکر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس اور کارکنوں کی جان کے ضیاع پر وادی میں تین دن سوگ رہے گا۔ رکن ایکشن کمیٹی شوکت نواز میر نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے اظہار تشکر کیا اور کہا وزیراعظم اور آرمی چیف نے حالات پر بھرپور توجہ دی اور مطالبات تسلیم کئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عوامی ایکشن کمیٹی خوش اسلوبی سے کشمیر کے عوام کشمیری عوام کیا جائے گا شہباز شریف کی جائے گی کے درمیان نے کہا کہ کے مسائل جائیں گے رہیں گے کیا اور کے بعد گے اور اور ان کے لیے ہے اور

پڑھیں:

وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم

سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری  وفد کی ملاقات،وزیر اعظم  نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے  پاک چین  دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا

وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے  سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 اس منصوبے سے  ملک میں  زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور  تربیت کو ان منصوبوں  کا حصہ بنایا جائے۔

 جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو  نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی  ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے  پر بات چیت کی جارہی ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں

ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر  اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی  کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

متعلقہ مضامین

  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری