تحریک انصاف بلوچستان کا 7 نومبر کو کوئٹہ میں جلسے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے داود شاہ کاکڑ نے کہا کہ 7 نومبر کو ہاکی گراونڈ میں مرکزی جلسہ عام منعقد ہوگا۔ جس سے پارٹی کے مرکزی اور چاروں صوبوں کے قائدین خطاب کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صدر داود شاہ کاکڑ نے پی ٹی آئی بلوچستان کے زیر اہتمام 7 نومبر کو کوئٹہ کے ہاکی گراونڈ میں جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے آج پی ٹی آئی رہنماؤں سردار زین العابدین خلجی، نور خان خلجی، صدیق خان اور دیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے تمام ڈسٹرکٹ کے صدور کا اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ جس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، جس نے ہمیشہ ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ جس کی پاداش میں پارٹی کے چیئرمین گزشتہ 790 دن سے بے گناہ جیل کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، مگر حکمران انہیں جھکانے میں ناکام رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے ڈسٹرکٹ صدور کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کوئٹہ میں 7 نومبر کو ہاکی گراونڈ میں مرکزی جلسہ عام منعقد ہوگا۔ جس سے پارٹی کے مرکزی اور چاروں صوبوں کے قائدین خطاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم باقاعدہ جلسے کیلئے ضلعی انتظامیہ کو درخواست دیں گے اور امید ہے کہ صوبائی حکومت نہ صرف ہمیں پرامن جلسے کی اجازت دے گی، بلکہ جلسے کے شرکاء کو مکمل سکیورٹی بھی فراہم کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام پر مسلط کردہ فارم 47 کے حکمرانوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے ڈیل کرلی ہے اور جلد عوام کے سامنے یہ ڈیل آجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان سمیت ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔ حکمران عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نومبر کو پارٹی کے
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک