Jasarat News:
2026-07-24@04:56:19 GMT

سینیٹر مشتاق احمد خان اور صمود فلوٹیلا کی فتح

اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251008-03-6

 

میر بابر مشتاق

الحمدللہ، سینیٹر مشتاق احمد خان بخیریت اردن پہنچ گئے ہیں۔ گلوبل صمود فلوٹیلا اگرچہ شہرِ عزیمت (غزہ) تک پہنچنے کے اپنے ہدف کو مکمل طور پر حاصل نہ کر سکا، مگر جو کچھ اس نے حاصل کیا وہ کسی کرشمے سے کم نہیں۔ یہ قافلہ صرف امداد کا نہیں بلکہ ضمیر، جرأت اور انسانیت کا قافلہ تھا۔ یہ اس امت کی نمائندگی تھی جو مظلوموں کی آہوں سے گونجتی زمین پر پھر سے اپنے ایمان کو زندہ دیکھنا چاہتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 22 نکاتی معاہدے کے بعد جب دجالی حکمران نیتن یاہو نے تکبر سے کہا تھا کہ: ’’لو! ہم نے دنیا کی ٹیبل پلٹ دی، اسرائیل اب تنہا نہیں، بلکہ ہم نے حماس کو تنہا کر دیا ہے‘‘۔ تو گلوبل صمود فلوٹیلا نے اسی میز کو دوبارہ پلٹ دیا۔ اب ذلت، تنہائی اور لعنت کا بوجھ خود دجالیوں پر جا چکا ہے۔ اہلِ مغرب، یورپ، ایشیا، افریقا اور عرب ہر سمت سے اسرائیل پر نفرتوں اور مذمتوں کی بارش ہو رہی ہے۔ انسانی ضمیر ایک بار پھر بیدار ہو رہا ہے، اور اس بیداری میں اس فلوٹیلا کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فلوٹیلا دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ اگرچہ مسلمان حکومتیں خاموش ہیں، مگر امت کے دل اب بھی دھڑک رہے ہیں۔ یہ جہاز اور ان پر سوار افراد وہ روشنی ہیں جو اندھیروں کے سمندر میں امید کی کرن بن کر چمک رہے ہیں۔ ان کی منزل غزہ ہو نہ ہو، ان کا پیغام ضرور وہاں پہنچ گیا ہے اور یہی پیغام اسرائیل کے ظلم کے خلاف عالمی بیداری کی نئی لہر کی بنیاد ہے۔

غزہ کی سرزمین آج پھر خون میں نہا رہی ہے۔ بچے ملبے تلے دفن ہیں، مائیں اپنے جگر گوشوں کی لاشیں اٹھائے بین کر رہی ہیں، اور دنیا کے سب سے بڑے کھلے قید خانے میں انسانیت سسک رہی ہے۔ ایسے عالم میں جب امت مسلمہ بے حسی کی گہری نیند سو رہی ہے، ہمیں اپنی تاریخ کے ان روشن ابواب کی طرف لوٹنا ہوگا جو عزم، ہمت اور استقامت کا سبق دیتے ہیں۔ ان ہی ابواب میں سب سے تابناک نام صلاح الدین ایوبی کا ہے۔ جو ظلمت کے مقابلے میں عدل، بزدلی کے مقابلے میں جرأت، اور شکست کے مقابلے میں ایمان و استقامت کی علامت ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کامیابی کا راز لشکروں کی کثرت یا اسلحے کی برتری میں نہیں، بلکہ ایمان، اخلاص اور عدل میں ہے۔ اکثر ہم سوچتے ہیں کہ ’’ہم جیسے کمزور لوگ کیا کر سکتے ہیں؟‘‘ مگر درحقیقت اصل جنگ ظاہری دشمن سے نہیں، بلکہ اپنے اندر کے خوف، مفاد پرستی اور بے عملی سے لڑی جاتی ہے۔ جب انسان اپنے ارادے کو خالص کر لیتا ہے اور اللہ پر توکل کرتا ہے، تو وہ واحد فرد بھی تاریخ کا دھارا بدل سکتا ہے۔

سینیٹر مشتاق احمد خان نے سیاست کو ذاتی مفاد یا اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ حق کے قیام اور مظلوموں کی آواز بنانے کا وسیلہ بنایا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی ذات سے بڑھ کر دوسروں کے لیے کھڑا ہونا پسند کیا۔ انہوں نے منظور پشتین اور اس کے ساتھیوں کے حقوق پر بات کی، مہ رنگ بلوچ کے احتجاجی دھرنے میں کھلے عام ظلم کی مذمت کی، عمران خان کی گرفتاری کے خلاف دو ٹوک مؤقف اپنایا، مگر افسوس! جن کے لیے وہ بولے، وہی آج ان کے ذکر پر خاموش ہیں۔ نہ پی ٹی ایم کے قائدین بولے، نہ وہ سیاستدان جن کے لیے انہوں نے پارلیمان میں آواز اٹھائی، اور نہ وہ میڈیا جو انصاف کے نام پر نعرے لگاتا ہے۔ یہی وقت ہوتا ہے جب تاریخ سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر کھینچتی ہے۔ اقتدار، شہرت، اور ٹرینڈنگ ہیش ٹیگز وقتی عزتیں ہیں، مگر اصول، قربانی اور استقامت وہ خزانہ ہیں جو صدیوں بعد بھی انسان کو امر کر دیتے ہیں۔ سینیٹر مشتاق احمد خان آج اسی روایت کے امین ہیں۔ انہوں نے خود کو اس راستے پر ڈالا ہے جہاں صرف یقین ہے، قربانی ہے، اور اللہ کی رضا کا وعدہ۔ ان کا سفر محض ایک سیاسی جدوجہد نہیں، بلکہ فکری اور روحانی مزاحمت کی علامت ہے۔

وہ سید ابوالاعلیٰ مودودی کے فکری وارث ہیں، جنہوں نے سیاست کو عبادت اور خدمت ِ خلق کا ذریعہ قرار دیا تھا۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر سیاست عبادت نہ بنے تو وہ لعنت ہے، اور اگر عبادت میں اجتماعی خیر شامل نہ ہو تو وہ ادھوری ہے۔ اسی لیے وہ اپنی سیاست کو ایمان، اخلاق، عدل اور جرأت کے امتزاج سے مزین رکھتے ہیں۔ وہ پارلیمان میں کھڑے ہو کر ظالموں، دجالی ایجنڈوں اور عالمی منافقت کو بے نقاب کرتے ہیں، اور جب غزہ کے بچوں پر بم گرتے ہیں تو وہ پاکستان کے ایوانوں کو جھنجھوڑتے ہیں۔ ان کی آواز محض سیاسی نہیں یہ امت کے درد، ایمان اور غیرت کی صدا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ہمیں طارق بن زیاد کے ایمان کی یاد دلاتا ہے۔ جب انہوں نے اندلس کے ساحل پر کشتیاں جلا دیں اور اپنے ساتھیوں کو للکار کر کہا: ’’پیچھے سمندر ہے اور آگے دشمن کا لشکر، اب واپسی نہیں؛ اب صرف فتح ہے یا شہادت!‘‘ اسی ایمان نے آٹھ سو سالہ اسلامی تہذیب کی بنیاد رکھی۔ آج یہی ایمان، یہی یقین اور یہی استقامت سینیٹر مشتاق احمد خان کی آنکھوں میں جھلکتی ہے۔ انہوں نے بھی اپنی کشتیاں جلا دی ہیں۔ اب ان کے لیے کوئی واپسی نہیں، صرف جدوجہد ہے، صرف ایمان ہے، صرف اللہ کا بھروسا ہے۔

ہم بطور امت ایک المیے کا شکار ہیں۔ ہم نے صلاح الدین جیسے ہیروز کو تاریخ کی کتابوں، نصابی ابواب اور تقریروں تک محدود کر دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی دوسرا آئے اور ہماری لڑائیاں لڑے، مگر ہم خود اپنی بزدلی اور مفاد پرستی میں غرق ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ سچ بولنے کی قیمت ہے، مگر ہم یہ قیمت ادا کرنے سے گھبراتے ہیں۔ ہماری مسجدیں آباد ہیں مگر ضمیر ویران۔ ہماری زبانیں تلاوت میں مصروف ہیں مگر دل عدل سے خالی۔ ایسے وقت میں جب مصلحت پرستوں کی زبانیں بند ہیں، مشتاق احمد خان جیسے لوگ امت کے لیے امید کا چراغ ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ اگر نیت خالص ہوتو ایک فرد بھی تاریخ بدل سکتا ہے۔ اگر دل میں یقین ہو تو لشکر بنائے بغیر بھی باطل کے ایوان ہلا سکتے ہیں۔ یہی وہ سبق ہے جو صلاح الدین ایوبی کی سیرت ہمیں دیتی ہے۔ انہوں نے بیت المقدس کو صرف تلوار سے نہیں بلکہ عدل، ایمان اور رحم سے فتح کیا۔ انہوں نے دشمن کے ساتھ بھی انصاف کا برتاؤ کیا اور دنیا کو دکھایا کہ مسلمان جب کھڑا ہوتا ہے تو صرف زمین نہیں، ضمیر بھی فتح کرتا ہے۔ ان کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ قیادت کے معنی اقتدار نہیں بلکہ خدمت ہے، اور طاقت کا مقصد ظلم نہیں بلکہ انصاف ہے۔ مشتاق احمد خان بھی اسی روایت کے وارث ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ اگر ایمان زندہ ہو تو ہر شہر ِ عزیمت، ہر غزہ، اور ہر بیت المقدس ایک دن ضرور آزاد ہوگا۔

یہ کالم دراصل ایک پیغام ہے ان سب کے لیے جو سمجھتے ہیں کہ حق کے لیے کھڑا ہونا بیکار ہے۔ نہیں! حق کے لیے اٹھایا گیا ہر قدم تاریخ میں اپنی جگہ بناتا ہے۔ آج گلوبل صمود فلوٹیلا کی کامیابی، دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف نفرت کا بڑھتا ہوا طوفان، اور سینیٹر مشتاق احمد خان جیسے رہنماؤں کی استقامت ثبوت ہیں کہ باطل کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق کی روشنی کبھی بجھ نہیں سکتی۔ ہمیں یہ یقین رکھنا ہوگا کہ اللہ کی نصرت اْنہی کے ساتھ ہے جو اس کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی ایمان، یہی استقامت اور یہی قربانی صلاح الدین کا ورثہ ہے اور یہی ورثہ آج سینیٹر مشتاق احمد خان نے سنبھالا ہے۔

آخر میں دعا ہے: اے اللہ! جس طرح تو نے صلاح الدین ایوبی کو اپنے دین کی سربلندی کے لیے منتخب کیا، اسی طرح ہمارے دور میں بھی حق کے علمبرداروں کو اپنی نصرت عطا فرما۔ مشتاق احمد خان کی استقامت کو مضبوط کر، ان کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دے، اور پاکستان کو ایسے ہی باکردار، باایمان اور بااصول رہنماؤں سے نواز دے۔ آمین۔

میر بابر مشتاق.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سینیٹر مشتاق احمد خان صمود فلوٹیلا صلاح الدین نہیں بلکہ انہوں نے اور یہی کہ اگر کے لیے ہیں کہ اور اس ہے اور رہی ہے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف