حجت الاسلام والمسلمین محمدی گلپائیگانی نے کہا ہے کہ یہ مہم رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی جانب سے اپیل کا قابل تعریف جواب ہے۔ اس مہم کے دوران ملک بھر سے خواتین نے اپنا سونا، ذاتی مکانوں سمیت دل کھول کر مقاومت کی مدد کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مقاومتی محاذ کے مجاہدین اور مظلومین کی حمایت، مدد اور نصرت کے لئے جاری ایران ہمدل کے عنوان سے جاری عوامی مہم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی کے دفتر کے مسئول حجت الاسلام والمسلمین محمدی گلپائیگانی نے کہا ہے کہ یہ مہم رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی جانب سے مظلومین کی حمایت کی دعوت کا قابل تعریف جواب ہے۔ اس مہم کے دوران ملک بھر سے خواتین نے اپنا سونا، ذاتی مکانوں سمیت دل کھول کر مقاومت کی مدد کی ہے۔ کوئی کونہ ایسا نہیں جہاں سے لوگوں نے امداد نہ بھیجی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ سید حسن نصر اللہ سے رابطے میں رہنے والے قم کے علما میں سے افراد نے مجھے بتایا کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے سید حسن نصر اللہ کی والہانہ محبت کا اندازہ اس لگایا جا سکتا ہے کہ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ میں دنیا میں موجود رہوں اور سید علی خامنہ ای نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقاومت کا پرچم ایسے مقدس ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی مظالم پر عالم اسلام کی بے حسی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے بھی ویڈیو پیغام میں مزاحمت کے لیے ایرانی قیادت، قوم اور حکومت کی حمایت کو سراہا۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: رہبر انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای سید حسن نصر اللہ نے کہا

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف