اگر آپ روزانہ کدو کھائیں تو بلڈ شوگر پر اسکے کیا اثرات مرتب ہونگے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
کدو صدیوں سے مختلف کھانوں میں استعمال ہوتا آرہا ہے اور جدید طب میں اس پر ذیابیطس و بلڈ شوگر سے متعلق بھی تحقیقات ہوئی ہیں۔
کدو کا ذائقہ میٹھا ضرور ہے لیکن اس میں کیلوریز کم اور فائبر مناسب مقدار میں ہوتا ہے جبکہ اس کا گلائسیمک انڈیکس نسبتاً کم ہوتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اعتدال میں کھایا جائے تو بلڈ شوگر کے مریضوں کیلئے یہ اچھا ہے۔
مزید برآں کدو میں بیٹا کیروٹین، پولی فینولز اور فلیوونائڈز جیسے اجزا ہوتے ہیں جو انسولین حساسیت بہتر کر سکتے ہیں اور آکسیڈیٹو اسٹریس کم کر کے شوگر کنٹرول میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ کچھ لیبارٹری مطالعات میں کدو کے بیج اور گودے کے اجزاء نے انسولین کے اخراج کو بہتر ثابت کیا ہے۔
تجربات میں کدو کے بیجوں نے جگر میں گلوکوز میٹابولزم پر اچھے اثرات ڈالے اور خون میں شوگر لیول کم کرنے میں مدد کی۔ اس میں فائبر اور پانی کی زیادہ مقدار کی وجہ سے بھوک کم لگ سکتی ہے جسکے نتیجے میں وزن بھی مستحکم رہ سکتا ہے جو ذیابیطس کے مریضوں کیلئے اہم ہے۔
تاہم ایک بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اگر ایک وقت میں زیادہ مقدار (خاص طور پر میٹھے پکوان جیسے کدو کی کھیر، حلوہ وغیرہ) کھائیں جائیں تو شوگر فوراً بڑھ سکتی ہے۔
ذیابیطس مریضوں کیلئے کدو کے استعمال کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ کدو کو ابال کر یا بھاپ میں پکا کر استعمال کریں۔ پروٹین یا فائبر کے ساتھ کھانے سے بلڈ شوگر پر اس کا اثر مزید نرم اچھا ہوتا ہے۔
کدو کے بیج میگنیشیم اور صحت مند فیٹس کی وجہ سے بھی ذیابیطس کے مریضوں کیلئے فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مریضوں کیلئے بلڈ شوگر کدو کے
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔