اسرائیل کا غزہ سٹی کے باشندوں کو نکل جانے کا حکم، ’جو وہاں رہیں گے انہیں عسکریت پسند سمجھا جائے گا‘ اسرائیل کا غزہ سٹی کے باشندوں کو نکل جانے کا حکم، ’جو وہاں رہیں گے انہیں عسکریت پسند سمجھا جائے گا‘

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے غزہ شہر کے تمام فلسطینی باشندوں کو اس شہر سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ’’آخری موقع‘‘ ہے اور جو فلسطینی وہاں رہیں گے، انہیں عسکریت پسند سمجھا جائے گا۔

گزشتہ قریب دو سال سے اسرائیل اور حماس کے مابین جاری جنگ میں تقریباﹰ پوری طرح تباہ ہو جانے والی غزہ پٹی کے سب سے بڑے شہری مرکز غزہ سٹی میں اسرائیلی فوج نے ستمبر کے وسط سے اپنا ایک وسیع تر زمینی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

(جاری ہے)

اس آپریشن کا مقصد وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کے فیصلے کے مطابق پورے غزہ شہر کو اسرائیلی کنٹرول میں لینا ہے۔ ستمبر کے وسط سے لےکر اب تک اس شہر سے تقریباﹰ چار لاکھ فلسطینی گھر بار چھوڑ چکے ہیں جبکہ شہری آبادی کا ایک بڑا حصہ اب بھی وہاں مقیم ہے۔

اسرائیلی فلسطینی تنازعے میں ویسٹ بینک کی حیثیت مرکزی کیسے؟

غزہ سٹی سے نکلنے کا ’آخری موقع‘

اس تناظر میں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ یکم اکتوبر کی رات اپنے ایک بیان میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ سٹی کے فلسطینی باشندوں کے لیے اس شہر کو چھوڑنے کا یہ ’’آخری موقع‘‘ ہے، جس کے بعد جو بھی فلسطینی اس شہر میں موجود رہیں گے، ’’انہیں عسکریت پسند سمجھا جائے گا۔

‘‘

ساتھ ہی وزیر دفاع کاٹز نے کہا کہ اس تنبیہ کے بعد بھی جو فلسطینی غزہ شہر میں مقیم رہیں گے، انہیں اسرائیلی فوج کی تازہ ترین عسکری پیش قدمی کے دوران ’’بھرپور طاقت‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیر دفاع کاٹز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’یہ غزہ سٹی کے رہائشیوں کے لیے بالکل آخری موقع ہے کہ وہ اس شہر سے نکل کر جنوبی غزہ پٹی کی طرف چلے جائیں۔

اس کے بعد جو بھی فلسطینی وہاں موجود رہیں گے، انہیں دہشت گرد اور دہشت گردوں کے حامی تصور کیا جائے گا۔‘‘ مزید کم از کم 21 فلسطینی ہلاک

سات اکتوبر 2023ء کو اسرائیل میں حماس کے دہشت گردانہ حملے کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ میں غزہ پٹی کی حماس کے زیر انتظام کام کرنے والی وزارت صحت کے مطابق اب تک 66 ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

اسی دوران غزہ پٹی میں دیر البلح سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق مختلف ہسپتالوں کے طبی کارکنوں نے تصدیق کی کہ اس فلسطینی ساحلی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران مزید کم از کم 21 فلسطینی مارے گئے ہیں۔

تازہ رپورٹوں کے مطابق غزہ پٹی کے شمال سے جنوب کی طرف جانے والی آخری بڑی شاہراہ، الرشید اسٹریٹ اس وقت جنوب کی طرف جانے والے فلسطینیوں کے قافلوں سے بھری پڑی ہے۔

یہ فلسطینی اپنے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پیدل بھی سفر میں ہیں اور ٹرکوں اور گاڑیوں سمیت مختلف سواریوں پر اپنا بچا کھچا سامان لادے ہوئے بھی۔

کل بدھ کے روز اسرائیلی فوج نے یہ ساحلی شاہراہ جنوب سے شمال کی طرف ٹریفک اور فلسطینیوں کی نقل و حرکت کے لیے بند کر دی تھی۔ اب وہاں سے صرف غزہ سٹی سے نکلنے والوں کو جنوب کی طرف جانے کی اجازت ہے۔

ٹرمپ امن منصوبے پر حماس کا ردعمل

امریکی صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ مل کر واشنگٹن میں غزہ پٹی کے لیے اپنا جو نیا امن منصوبہ پیش کیا تھا، اس کی بین الاقوامی سطح پر تو کافی حمایت کی گئی ہے، تاہم فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس ابھی تک اسے قبول کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتی۔

صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ حماس کو یہ غزہ امن منصوبہ لازمی قبول کرنا چاہیے، ورنہ اسے ’’انتہائی سخت نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس بارے میں حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جمعرات دو اکتوبر کے روز نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو تفصیلات کا ذکر کیے بغیر بتایا کہ اس امن منصوبے کے کچھ نکات ’’ناقابل قبول‘‘ ہیں اور ان میں ترمیم کی جانا چاہیے۔

ساتھ ہی حماس کے اس عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ تازہ امن منصوبے پر حماس کا یہ ابتدائی اور غیر سرکاری ردعمل ہے جبکہ باضابطہ ردعمل دیگر فلسطینی گروپوں کے ساتھ مشاورت کے بعد سامنے آئے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہیں عسکریت پسند سمجھا جائے گا اسرائیلی وزیر اسرائیل کا غزہ سٹی کے وزیر دفاع کے مطابق کاٹز نے حماس کے رہیں گے غزہ پٹی کی طرف کے بعد کے لیے کہا کہ سے نکل

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش