سعودی عرب پر اسرائیلی حملے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا، یمن
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
صیہونی حکومت کے خلاف عملی اقدام نہ کرنے پر عرب اور اسلامی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الحوثی نے کہا کہ ان ممالک نے خاموشی اختیار کر کے نہ صرف فلسطین کی مدد نہیں کہ بلکہ یہ خاموشی عظیم تر اسرائیل کے صہیونی منصوبے کی راہ ہموار کریگی۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم پولیٹیکل کونسل یمن کے رکن محمد علی الحوثی نے کہا کہ ہم سعودی عرب پر اسرائیلی حملے کا مکمل امکان ہے، کیونکہ سعودی عرب گریٹر اسرائیل منصوبے کا حصہ ہے۔ یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے رکن محمد علی الحوثی نے اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ یمنی سپورٹ فرنٹ اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک غزہ پر حملے مکمل طور پر بند نہیں ہوجاتے اور علاقے کا محاصرہ ختم نہیں ہوجاتا۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے کردار کے بارے میں دشمن کی تشویش سے ظاہر ہوتا ہے کہ جغرافیائی طور پر فاصلے کے باوجود یمن کی کارروائیوں کے نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
انہوں نے صیہونی حکومت کے خلاف عملی اقدام نہ کرنے پر عرب اور اسلامی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مزید کہا کہ ان ممالک نے خاموشی اختیار کر کے نہ صرف فلسطین کی مدد نہیں کہ بلکہ یہ خاموشی عظیم تر اسرائیل کے صہیونی منصوبے کی راہ ہموار کریگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلمان ممالک پریشر کارڈز استعمال کرتے ہوئے زیادہ سنجیدہ کردار ادا کریں، جیسے کہ تیل کی کچھ برآمدات روکنا یا اسرائیل کی حمایت کرنے والے بینکوں سے سرمایہ نکالنا۔ اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں الحوثی نے سعودی اماراتی اتحاد پر یمن کے خلاف کرائے کے فوجیوں کی کھلی حمایت کی مذمت کی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کیخلاف نئی جارحیت ان عرب ممالک کی مداخلت کی سطح اور طاقت پچھلے سالوں کے اقدامات سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی۔ انہوں نے آپریشن طوفان الاقصیٰ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ آپریشن نہ ہوتا تو تمام فلسطینی قیدی صیہونی حکومت کی جیلوں میں موجود رہتے۔ الحوثی نے سعودی عرب پر اسرائیلی حملے کے امکان کو رد نہیں کیا اور سعودی عرب کو "گریٹر اسرائیل" منصوبے کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے ٹرمپ کے بیانات کے بارے میں کہا کہ خلیجی ممالک کو امریکی حمایت کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ ان کا سوال تھا کہ ٹرمپ نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف قطر کی حمایت سے انکار کیوں کیا؟
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: الحوثی نے نے کہا کہ انہوں نے کے خلاف
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔