data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251008-08-27
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور بیلاروس کے مابین ایک لاکھ 50 ہزار تربیت یافتہ ہنرمند پاکستانیوں کو روزگار فراہمی کا معاہدہ تعطل کا شکار ہوگیا، معاہدے کی آڑ میں غیرقانونی طریقوں سے سرحد پار کرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا انکشاف ہوا ہے جس پر حکومت نے معاہدہ کی تفصیلات طے ہونے تک پاکستانیوں کو بیلاروس کے سفر سے گریز کی ہدایت کردی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بیلاروس کے مابین اپریل میں ہوئے روزگار کی فراہمی حالیہ معاہدے سے متعلق پائے جانے والے ابہام کے باعث یکم جنوری سے دو اکتوبر تک کے عرصے میں بیلاروس اور پولینڈ کی سرحد پر آٹھ ممالک کے باشندوں کی جانب سے غیر قانونی طورپر سرحد پار کرنے کی 15 ہزار کوششیں سامنے آئی ہیں جن میں پاکستانی سرفہرست ہیں یہ صورتحال وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورہ بیلاروس میں کیے گئے دوطرفہ معاہدہ کے برعکس ہیں جس کے تحت ڈیڑھ لاکھ سے زاید ہنرمند پاکستانیوں کو آئی ٹی، صحت، تعمیرات اور انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں میں ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا تاہم پانچ ماہ گزرنے کے باوجود یہ معاہدہ تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ بیلاروس میں فی کس اوسط ماہانہ تنخواہ 670 سے 700 ڈالر ہے، جو پاکستان کی اوسط تنخواہ 150 سے 170 ڈالر سے کہیں زیادہ ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی