معاہدے کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ، پاکستانیوں کے بیلاروس جانے کا معاملہ تعطل کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
لاہور:
پاکستان اور بیلاروس کے مابین ایک لاکھ 50 ہزار تربیت یافتہ ہنرمند پاکستانیوں کو روزگار فراہمی کا معاہدہ تعطل کا شکار ہوگیا، معاہدے کی آڑ میں غیرقانونی طریقوں سے سرحد پار کرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا انکشاف ہوا ہے جس پر حکومت نے معاہدہ کی تفصیلات طے ہونے تک پاکستانیوں کو بیلاروس کے سفر سے گریز کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان اور بیلاروس کے مابین اپریل میں ہوئے روزگار کی فراہمی حالیہ معاہدے سے متعلق پائے جانے والے ابہام کے باعث یکم جنوری سے دو اکتوبر تک کے عرصے میں بیلاروس اور پولینڈ کی سرحد پر آٹھ ممالک کے باشندوں کی جانب سے غیر قانونی طورپر سرحد پار کرنے کی پندرہ ہزار کوششیں سامنے آئی ہیں جن میں پاکستانی سرفہرست ہیں۔
یہ صورتحال وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورہ بیلاروس میں کیے گئے دوطرفہ معاہدہ کے برعکس ہیں جس کے تحت ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہنرمند پاکستانیوں کو آئی ٹی، صحت، تعمیرات اور انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں میں ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا تاہم پانچ ماہ گزرنے کے باوجود یہ معاہدہ تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔
ذرائع کے مطابق، بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے اب تک کوئی باضابطہ ہدایات جاری نہیں کیں اور نہ ہی بیلاروس کی حکومت یا منظور شدہ ریکروٹنگ ایجنسیوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر افرادی قوت کو بیرونِ ملک بھیجنے کے لیے کوئی فیزیبلٹی رپورٹ یا لاگت و فائدے کا تجزیہ بھی سامنے نہیں آیا۔
ذرائع کے مطابق قانونی اور منظم روزگار کے مواقع کی عدم دستیابی کے باعث کئی افراد خطرناک راستوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔ پولینڈ کے حکام نے رواں سال اب تک 150 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے جو غیر قانونی سرحد پار کرانے میں ملوث پائے گئے، جس سے انسانی اسمگلنگ اور علاقائی سلامتی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ بیلاروس پر عالمی پابندیاں ہیں اور اس کی معیشت کمزور ہے۔ بیلاروس میں فی کس اوسط ماہانہ تنخواہ 670 سے 700 ڈالر ہے، جو پاکستان کی اوسط تنخواہ 150 سے 170 ڈالر سے کہیں زیادہ ہے تاہم مجوزہ کم از کم تنخواہ گیارہ سو ڈالر کی پیشکش پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ آیا بیلاروس اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی ملازمین کو اس تنخواہ پر برداشت کر سکتا ہے یا نہیں۔
دوسری جان بیلاروس جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، حتیٰ کہ اسلام آباد میں موجود بیلاروس کے قونصل خانے نے درخواستوں کی وصولی عارضی طور پر بند کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق یورپی یونین کی سرحدوں کی کڑی نگرانی کے باعث غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کی کوششیں نہ صرف پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ ان افراد کی جان و صحت کو بھی شدید خطرات لاحق کر رہی ہیں۔
اسی لیے حکام نے بیلاروس کے خودساختہ سفر سے گریز کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی تفصیلات طے ہونے تک کوئی بھی انفرادی طور پر سفر نہ کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بیلاروس کے سرحد پار کے مطابق
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔