ہنر مند وں کو روزگار کی فراہمی،پاک بیلاروس معاہدہ پانچ ماہ سے تعطل کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
ہنر مند وں کو روزگار کی فراہمی،پاک بیلاروس معاہدہ پانچ ماہ سے تعطل کا شکار WhatsAppFacebookTwitter 0 6 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) پاکستان اور بیلاروس کے مابین ایک لاکھ پچاس ہزار تربیت یافتہ ہنرمند پاکستانیوں کو روزگار فراہمی کا معاہدہ تعطل اور ابہام کا شکار- معاہدے کی آڑ میں غیرقانونی طریقوں سے سرحد پار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کا انکشاف ہواہے دوسری جانب حکومت نے معاہدہ کی تفصیلات طے ہونے تک پاکستانیوں کو بیلاروس کے سفر سے گریز کی ہدایت کردی ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بیلاروس کے مابین اپریل میں ہونیوالے روزگار کی فراہمی حالیہ معاہدے سے متعلق پائے جانے والے ابہام کے باعث یکم جنوری سے دو اکتوبر تک کے عرصے میں بیلاروس اور پولینڈ کی سرحد پر آٹھ ممالک کے باشندوں کی جانب سے غیر قانونی طورپر سرحد پار کرنے کی پندرہ ہزار کوششیں سامنے آئی ہیں جن میں پاکستانی سرفہرست ہیں۔
یہ صورتحال وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورہ بیلاروس میں کیے گئے دوطرفہ معاہدہ کے برعکس ہیں جس کے تحت ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہنرمند پاکستانیوں کو آئی ٹی، صحت، تعمیرات اور انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں میں ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تاہم پانچ ماہ گزرنے کے باوجود یہ معاہدہ تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ذرائع کے مطابق، بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے اب تک کوئی باضابطہ ہدایات جاری نہیں کیں اور نہ ہی بیلاروس کی حکومت یا منظور شدہ ریکروٹنگ ایجنسیوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر افرادی قوت کو بیرونِ ملک بھیجنے کے لیے کوئی فیزیبلٹی رپورٹ یا لاگت و فائدے کا تجزیہ بھی سامنے نہیں آیا۔ذرائع کے مطابق قانونی اور منظم روزگار کے مواقع کی عدم دستیابی کے باعث کئی افراد خطرناک راستوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
پولینڈ کے حکام نے رواں سال اب تک 150 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے جو غیر قانونی سرحد پار کرانے میں ملوث پائے گئے، جس سے انسانی اسمگلنگ اور علاقائی سلامتی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ بیلاروس پر عالمی پابندیاں ہیں اور اس کی معیشت کمزور ہے۔ بیلاروس میں فی کس اوسط ماہانہ تنخواہ 670 سے 700 ڈالر ہے، جو پاکستان کی اوسط تنخواہ 150 سے 170 ڈالر سے کہیں زیادہ ہے۔ تاہم مجوزہ کم از کم تنخواہ گیارہ سو ڈالر کی پیشکش پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ آیا بیلاروس اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی ملازمین کو اس تنخواہ پر برداشت کر سکتا ہے یا نہیں۔دوسری جان بیلاروس جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے
، حتی کہ اسلام آباد میں موجود بیلاروس کے قونصل خانے نے درخواستوں کی وصولی عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق یورپی یونین کی سرحدوں کی کڑی نگرانی کے باعث غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کی کوششیں نہ صرف پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ ان افراد کی جان و صحت کو بھی شدید خطرات لاحق کر رہی ہیں۔اسی لیے حکام نے بیلاروس کے خودساختہ سفر سے گریز کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی تفصیلات طے ہونے تک کوئی بھی انفرادی طورپرسفرنہکرے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت کو پہلے ایڈونچر پردنیا میں ذلت ملی، دوبارہ کوئی حرکت کی تو پہلے سے زیادہ رسوائی ہوگی، وزیردفاع بھارت کو پہلے ایڈونچر پردنیا میں ذلت ملی، دوبارہ کوئی حرکت کی تو پہلے سے زیادہ رسوائی ہوگی، وزیردفاع خالدہ ضیا کے بیٹے اور بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان انتخابات میں حصہ لیں گے سعودی عرب کے ساتھ معاشی مذاکرات، پاکستان نے اعلی سطحی کمیٹی بنا دی وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں ہم ساتھ دیں گے، پی ٹی آئی کی پیپلز پارٹی کو پیشکش سیاسی بیان بازی: ن لیگ اور پی پی وفود کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم سیاسی بیان بازی : پیپلز پارٹی کا سینیٹ سے واک آ ئوٹ ، لیگی قیادت سے معافی کا مطالبہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :