کراچی ایئرپورٹ حملے میں سہولت کاری؛ ملزمہ کی درخواستِ ضمانت پر استغاثہ سے دلائل طلب
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے کراچی ایئرپورٹ کے قریب خود کش حملے میں سہولت کاری کے الزام میں گرفتار ملزمہ کی درخواست ضمانت سے متعلق استغاثہ سے آئندہ سماعت پر دلائل طلب کرلیے۔
درخواست ضمانت کی سماعت کے موقع پر وکیل شوکت حیات ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گل نسا پر تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ ملزمہ کا کوئی تعلق خود کش حملہ آور یا دیگر ملزمان سے ثابت نہیں ہوا۔ ایف آئی آر میں نام یا حلیہ بھی واضح نہیں کیا گیا۔ ملزمہ کی شناختی پریڈ نہیں کرائی گئی اور نہ ہی اقبالی بیان کرایا گیا۔
وکیل کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج بالکل واضح نہیں جس سے شناخت کی جاسکے۔ خود کش حملہ آور سے کوئی تعلق ثابت نہیں کیا گیا اور نہ ہی بی ایل اے سے کوئی تعلق ہے۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ چائنیز کے کراچی ایئرپورٹ پہنچنے کی اطلاع کس نے لیک کی، جس کی وجہ سے خود کش حملہ آور وہاں پہنچا۔
دورانِ سماعت استغاثہ نے الزام لگایا کہ ملزمہ گل نسا نے 6 اکتوبر 2024ء کے خود کش حملے میں سہولت کاری کی تھی۔ عدالت نے استغاثہ کے وکلا سے دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔