شدید سمندی طوفان ’’شکتی‘‘ کمزور ہوگیا، سندھ اور بلوچستان میں بارش کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
کراچی:
مغربی وسطی اور ملحقہ شمال مغربی بحیرۂ عرب میں موجود شدید سمندری طوفان ’’شکتی‘‘ گزشتہ 6 گھنٹوں کے دوران کمزور ہو کر ایک سمندری طوفان میں تبدیل ہوگیا۔
محکمہ موسمیات نے شمال مغربی بحیرہ عرب میں سمندری طوفان شکتی کے متعلق 11واں الرٹ جاری کر دیا ہے۔ طوفان کا مرکز کراچی سے تقریباً 910 کلومیٹر جنوب مغرب میں ہے۔
امکان ہے کہ یہ طوفان مشرق-جنوب مشرق کی جانب اسی علاقے میں حرکت کرے گا اور آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کمزور ہو کر ایک دباؤ (ڈپریشن) میں تبدیل ہو جائے گا۔
سمندری طوفان کے زیر اثر آج سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ہلکی بارش کا امکان ہے۔
سندھ کے ساحل کے قریب 70 سے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے 70 تا 90 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوائیں چلنے کے سبب سمندر میں طغیانی رہنے کا امکان ہے۔ ماہی گیروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ 7 اکتوبر تک گہرے سمندر میں نہ جائیں۔
سائیکلون وارننگ سینٹر کراچی سمندری طوفان کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ سمندری طوفان کے سبب گزشتہ شب بھی کراچی کے مغربی، وسطی اور شمالی علاقوں میں ہلکی سے تیز بارش ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سمندری طوفان
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔